اربوں ڈالر کے قیمتی پتھروں کی برآمد اور ریگولرائزیشن کیلیے جامع منصوبہ متعارف کرانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے اربوں ڈالر کے قیمتی پتھروں کی برآمد اور ریگولرائزیشن کے لیے 5سالہ جامع منصوبہ متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ منصوبے کے تحت 5 سال میں 610 برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں میں نمائش کی سہولت دی جائے گی جبکہ کاروبار کی رجسٹریشن، صوبائی ہم آہنگی اور سہولیات کے لیے مرکزی اتھارٹی بنانے کی بھی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ اتھارٹی میں وفاقی اور صوبائی نمائندے شامل ہوں گے جبکہ ادارہ قومی جمیز اسٹوںن پالیسی کا نگراں ہوگا۔ نیشنل ورائٹی آفس قائم اور برآمد نہ ہونے والے سامان کی واپسی یقینی بنائی جائے گی، برآمد کندگان کو لین دین آسان بنانے کے لیے ای پیمنٹ گیٹ ویز کی سہولیات دی جائے گی۔ قیمتی پتھروں کی قانونی تجارت بڑھانے کے لیے 6 ورکنگ گروپس قائم کر دیے گئے ہیں جن میں بینکاری و مالی امور میں بہتری، غیر فروخت شدہ مال کے ری فنڈ سے متعلق ورکنگ گروپ شامل ہیں۔ گروپس کان کنی کے شعبے میں جدت اور کاروبار کی رجسٹریشن پر بھی کام کریں گے۔ حکام کے مطابق رجسٹریشن اور ٹریسی ایبلیٹی سے 6کروڑ ڈالر سے زائد کی ویلیو ایڈیشن متوقع ہے، تمام ادارے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کی سہہ ماہی رپورٹ وزارت کو دیں گے۔ حکام کے مطابق پاکستان میں 450ارب ڈالر سے زائد مالیت کے قیمتی پتھر موجود ہیں۔ پاکستان میں 200 ملین قیراط یاقوت، 70 ملین قیراط زمرد اور دیگر قیمتی پتھر ہیں۔ پرانے طریقوں کے ذریعے پراسیسنگ سے 70فیصد تک قیمتی پتھر ضائع ہو رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔