Jasarat News:
2026-06-02@23:59:56 GMT

تیراہ اُداس ہے!

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

خیبر پختون خوا پاکستان کا ایک ایسا صوبہ ہے جو اپنی قدرتی خوبصورتی بلند پہاڑوں، سرسبز وادیوں اور دریاؤں کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں کی مشہور وادیوں میں سوات، کاغان، ناران، چترال اور گمراہٹ شامل ہیں جو سارا سال ہی سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتی ہیں۔ وادی سوات کو مشرق کا سوئٹزر لینڈ کہا جاتا ہے جو اپنے بلند پہاڑوں، دریاؤں اور تاریخ کی وجہ سے مشہور ہے، اس کے مشہور علاقوں میں مالم جبہ، کالام اور بحرین جیسے خوبصورت مقامات شامل ہیں۔ وادی کاغان و ناران جو مانسہرہ میں دریائے کنہار کے کنارے ہے وہ جھیل سیف الملوک اور بابوسر ٹاپ کے لیے مشہور ہے۔ چترال ترچ میر کے دامن میں واقع ہے جو سلسلہ ہندوکش کی بلند ترین چوٹی ہے۔ یہ وادی اپنے منفرد ثقافت کے لیے مشہور ہے وادی گمراہٹ دیر بالا میں واقع ہے جو گھنے جنگلات، آبشاروں اور دریائے پنجگوڑہ کے لیے مشہور ہے۔ وادی کالاش چترال میں بموریت اور رمبوت اور بریر وادیوں پر مشتمل ہے جو اپنے قدیم ثقافت اور تہواروں کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتی ہے۔ وادی سیرن مانسہرہ کی قدرتی مناظر سے مالا مال ایک پرسکون وادی ہے۔ وادی تیراہ قبائلی اضلاع خیبر، کرم اور اورکزئی ایجنسیوں کے درمیان واقع ہے جبکہ اس کا چھوٹا حصہ افغانستان کے صوبے ننگرہار کی شمالی سرحد کو بھی چھوتا ہے یہاں پشتونوں کے آفریدی اورنگزئی اور شنواری قبیلے آباد ہیں۔ یہ تمام وادیاں اپنی منفرد ثقافت تاریخ اور قدرتی حسن کی وجہ سے سیاحت کے لیے بے مثال ہیں۔

دسمبر جنوری کا موسم ان وادیوں میں سخت سرد ہوتا ہے اور برفبادی کا لطف اٹھانے کے لیے سیاح ان وادیوں کا رُخ کرتے ہیں۔ خاص طور پہ سوات، کالام، مالم جبہ اور گردو نواح کے پہاڑوں پر برف باری کے بعد ہر جانب سفیدی چھائی ہوتی ہے آج کل وادی نیلم کے بالائی علاقوں میں برف بادی ہورہی ہے، وادی برف سے ڈھک گئی ہے۔ اپر نیلم اڑنگ کیل اور دیگر علاقوں میں وقفے وقفے سے برف باری ہو رہی ہے، چلاس کے بالائی مقام پر گزشتہ کئی دن سے برف باری ہورہی ہے جس سے سردی میں بہت اضافہ ہو گیا ہے لیکن خبروں میں جس کا بہت زور ہے وہ وادی تیراہ ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اس وادی کا نام لے کر ایک دوسرے کو لعن طعن کر رہے ہیں۔ بات بڑی تشویشناک ہے ذرا سوچیں چار چار فٹ برف ہو اور آپ کو اپنا جماجمایا گھر چھوڑ کر پورے خاندان کو لے کر نقل مکانی کرنی پڑے۔ چھوٹے بچے، خواتین۔ ضرورت کی ہزار چیزیں ہوتیں ہیں اپنا گھر چھوڑ کر کیمپ کی زندگی گزارنا کھیل تو نہیں ہوتا۔ وفاقی حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ نقل مکانی تو ہو رہی ہے لیکن یہ معمول کی بات ہے اور نقل مکانی کی وجہ فوجی آپریشن نہیں موسم ہے۔ دوسری طرف وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ صوبائی حکومت ان چار ارب روپے کے اوپر کرپشن کر رہی ہے جو حکومت نے تیراہ کے لوگوں کے لیے جاری کیے تھے یعنی نقل مکانی کی ضروریات کے لیے۔ اس صورتحال میں تیراہ کے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ تیراہ کی کل آبادی تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہے جس میں سے 70 ہزار کے قریب لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں اور ان کی رجسٹریشن بھی ہو چکی ہے۔ امدادی سرگرمیوں کے نگران افسر کہتے ہیں کہ رجسٹریشن کی آخری تاریخ 23 جنوری سے بڑھا کر پانچ فروری کر دی گئی ہے۔

سچ بات یہ ہے کہ نقل مکانی ہو رہی ہے اور اس کی وجہ وادی تیراہ میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال ہے۔ پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ علاقے میں تحریک طالبان پاکستان کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی جاری ہے یہ اگرچہ افغان طالبان سے الگ ہیں لیکن 2021 میں ان کے اقتدار میں آنے کے بعد ٹی ٹی پی کا گروہ مضبوط ہوا ہے ٹی ٹی پی کی کئی رہنما اور جنگجو افغانستان میں پناہ لیے ہوئے تھے وہ سیکڑوں کی تعداد میں تیراہ میں داخل ہو چکے ہیں جہاں وہ کارروائیوں کے دوران مقامی آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہاں کے لوگ بتا رہے ہیں پچھلے تین سال سے یہاں بہت بدامنی پھیلی ہوئی ہے، ہمارے بچے اور خواتین شہید ہو رہی ہیں خود سیکورٹی فورسز کی طرف سے کی جانے والی کارروائی میں بھی لوگ شہید ہو رہے ہیں، اسی کی وجہ سے نقل مکانی ہو رہی ہے۔ وہاں کے لوگوں کے بقول ہم تنگ آ چکے ہیں اب ہم نے نقل مکانی شروع کی ہے اور ہم نے ایک معاہدے کے تحت یہ نقل مکانی شروع کی ہے ان کا کہنا ہے کہ جرگہ میں تحریری اور قانونی معاہدہ کیا گیا ہے۔ پچھلے تین سال سے یہاں آپریشن جاری ہے اور روزانہ کی بنیادوں پر آپریشن ہو رہے ہیں۔ ہم تنگ آچکے ہیں۔ ساتھ ہی مقامی لوگ بتا رہے ہیں کہ گزشتہ اگست میں مقامی قبائل کے لوگ طالبان کے پاس قرآن لے کر گئے تھے کہ وہ اس علاقے سے چلے جائیں اور اس کے لیے طالبان نے وقت مانگا تھا لیکن بعد میں طالبان نے اس جگہ کو چھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا علاقے کے عمائدین کا کہنا ہے کہ علاقے کے لوگوں کے نوجوان بچے بھی طالبان کی طرف جا رہے ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں حالات خراب ہو رہے ہیں۔

تیراہ میں 2006 سے 2008 تک شدت پسند تنظیموں کی کارروائیاں بڑھ گئی تھی اور یہ علاقہ شدت پسند تنظیموں کا مضبوط گڑھ سمجھے جانے لگے تھے جہاں ان کی اپنی چیک پوسٹیں بھی موجود تھیں ان کے خلاف 2008 سے 2010 میں آپریشن ہوئے لیکن کوئی خاص کامیاب نہ ہو سکے۔ 2014 سے 2017 تک بھی آپریشن خیبر کے نام سے اس علاقے میں مختلف اوقات میں آپریشن کیے گئے لیکن وہ بھی اتنے کامیاب نہیں ہوئے وادی تیراہ میں مسجدوں کے لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے لوگوں کو 30 جنوری تک علاقہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی تھی تاکہ ممکنہ جھڑپوں میں نقصانات سے بچ سکیں یہاں پہلے بھی شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کیا تھا جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے تھے۔ اب پھر یہ کام کیا جارہا ہے وفاقی اور صوبائی کے اختلافات کے باعث تیراہ کے لوگ اور زیادہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں پھر ایک طرف چار ارب روپے ہیں جن کا سراغ نہیں مل رہا ہے کہ کہاں گئے؟؟ حقیقت میں یہ پختون خوا کو بلوچستان کی طرح کے حالات میں مبتلا کرنے کی کوشش لگ رہی ہے۔ سو حسین وادیاں اونچے کوہسار گنگناتے جھرنے اور شور مچاتے دریا سب ہی اُداس ہیں۔

غزالہ عزیز سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وادی تیراہ ہو رہے ہیں نقل مکانی تیراہ میں کی وجہ سے ہو رہی ہے مشہور ہے چکے ہیں کے لوگ ہے اور کے لیے

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین