صوبائی حکومت نے وادی تیراہ کے متاثرہ خاندانوں کی سہولت کیلئے 4 ارب روپے مختص کیے ہیں شفیع جان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا وادی تیراہ کے متاثرہ خاندانوں کیلئے چار ارب روپے کے فنڈز کی تفصیلات سے متعلق جاری بیان میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے وادی تیراہ کے متاثرہ خاندانوں کی سہولت کیلئے 4 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
از دفتر معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ، حکومت خیبر پختونخوا شفیع جان نے کہا کہ 31 جنوری 2026 تک متاثرہ خاندانوں کی ٹرانسپورٹ اور دوران سفر خوراک پر 92 کروڑ روپے خرچ کئے، صوبائی حکومت نے تمام اخراجات کا مکمل آڈٹ ایبل ریکارڈ مرتب کر لیا گیا، مرتب ریکارڈ میں ضلعی انتظامیہ اور مقامی مشران کی تصدیق اور وصول کنندہ کے دستخط بمعہ شناختی کارڈ شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے متاثرین کو امدادی معاوضہ پیکیج اور ماہانہ معاونت کی مد میں 2 ارب 40 کروڑ روپے مختص کئے ہیں، متاثرہ خاندانوں کو نادرا رجسٹریشن اور تصدیق کے بعد ڈیجیٹل ادائیگی کی جائے گی، امدادی رقوم براہ راست متاثرین کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوں گی۔؎
انہوں نے کہا کہ معاوضہ کی ادائیگی میں شفافیت اور مکمل آڈٹ ایبل ریکارڈ ترتیب دیا جا رہا ہے، متاثرہ خاندانوں کو معاوضوں کی ادائیگی میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا، عوامی وسائل اور فنڈز کے تحفظ کیلئے سخت مانیٹرنگ کا نظام نافذ ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت بدعنوانی کے تدارک اور شفاف طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متاثرہ خاندانوں کی صوبائی حکومت نے شفیع جان
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔