شہری سانحات میں فوجداری احتساب کا سوال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں بڑے شہری سانحات کا بار بار رونما ہونا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک گہرے انتظامی، قانونی اور اخلاقی بحران کی علامت ہے۔ کراچی کے گل پلازہ میں آتش زدگی ہو یا لاہور میں کھلے مین ہول کے باعث انسانی جان کے ضیاع کا دل خراش واقعہ، یہ سانحات ایک ہی بنیادی سوال کو جنم دیتے ہیں: کیا ریاستی مشینری میں موجود غفلت، لاپروائی اور قانون شکنی واقعی ناقابل ِ گرفت ہے، یا پھر قوانین کی موجودگی کے باوجود عمل درآمد کی عدم موجودگی نے انسانی جان کو بے وقعت بنا دیا ہے؟ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے قانونی ڈھانچے میں نہ صرف ایسے جرائم کی واضح نشاندہی موجود ہے بلکہ ان کی سزا کا تعین بھی کیا گیا ہے، مگر عملی سطح پر قانون کی گرفت کمزور پڑ جاتی ہے اور ذمے دار افراد اکثر انتظامی کارروائیوں کی اوٹ میں فوجداری احتساب سے بچ نکلتے ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ اور سول سرونٹس ایکٹ 1973ء کا مطالعہ یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ ریاستی ملازمین کسی بھی صورت قانون سے بالاتر نہیں۔ تعزیراتِ پاکستان کے تحت جلد بازی یا غفلت کے نتیجے میں کسی انسان کی موت واقع ہونا ایک قابل ِ سزا جرم ہے، اور اس میں سرکاری ملازم یا عام شہری کے درمیان کوئی امتیاز نہیں رکھا گیا۔ یہ اصول بذاتِ خود جدید قانونی ریاست کی بنیاد ہے کہ جرم، جرم ہوتا ہے، چاہے وہ اختیار کے ساتھ کیا جائے یا اختیار کی بدولت چھپایا جائے۔ قانون اس امر کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی سرکاری عہدے کی آڑ میں انسانی جان کے ضیاع کو محض ایک انتظامی غلطی قرار دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا جائے۔
سول سرونٹس ایکٹ 1973ء اس حوالے سے مزید وضاحت فراہم کرتا ہے کہ سرکاری ملازمین ملک کے تمام قوانین کے تابع ہیں، اور اگر ان کی غفلت، کوتاہی یا دانستہ خلاف ورزی کے نتیجے میں کوئی فوجداری جرم وقوع پذیر ہو جائے تو محکمانہ کارروائی اس جرم کے خلاف فوجداری مقدمے میں کسی طور رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اس کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 1964ء ہر سرکاری ملازم پر یہ اخلاقی اور قانونی ذمے داری عائد کرتے ہیں کہ وہ دیانت داری، فرض شناسی اور ذمے دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کرے۔ کسی ایسے عمل یا ترکِ عمل کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو عوامی مفاد، انسانی جان یا ریاستی وقار کے منافی ہو۔ ان قانونی اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو گل پلازہ جیسے واقعات محض حادثات نہیں بلکہ ممکنہ طور پر مجرمانہ غفلت کے واضح کیسز ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق عمارت میں فائر ایگزٹس، الارم سسٹمز اور ہنگامی تیاری جیسے بنیادی حفاظتی تقاضے موجود نہیں تھے، حالانکہ بلدیاتی قوانین اور بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز ان تقاضوں کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ اگر معائنہ، منظوری یا تجدید کے ذمے دار افسران نے ان خامیوں کو نظر انداز کیا، یا عوامی شکایات کے باوجود خاموشی اختیار کی، تو یہ محض بدانتظامی نہیں بلکہ ایسا طرزِ عمل ہے جو فوجداری قانون کے دائرے میں آتا ہے۔ یہی اصول لاہور کے مین ہول کے واقعے پر بھی لاگو ہوتا ہے، جہاں شہری انفرا اسٹرکچر کی ناقص دیکھ بھال اور حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی نے ایک قیمتی جان لے لی۔ سوال یہ نہیں کہ مین ہول کس محکمے کے دائرہ اختیار میں آتا تھا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ ذمے داران نے اپنے قانونی فرائض ادا کیے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر قانون کے مطابق فوجداری کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
پاکستان کی عدالتی تاریخ اس حوالے سے بھی واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ عدالت عظمیٰ اپنے متعدد فیصلوں میں یہ اصول طے کر چکی ہے کہ جہاں کسی فوجداری جرم کا عنصر موجود ہو، وہاں محض تادیبی یا محکمانہ کارروائی کو کافی نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت ِ عظمیٰ کے مطابق انتظامی انکوائری اور فوجداری مقدمہ دو الگ قانونی راستے ہیں، اور دونوں بیک وقت چل سکتے ہیں۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ اگر تحقیقات میں مجرمانہ غفلت ثابت ہو جائے تو متعلقہ افسران نہ صرف معطلی یا برطرفی بلکہ فوجداری سزا کے بھی مستحق ہو سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے عملی صورتحال اس قانونی تصور سے کوسوں دور نظر آتی ہے۔ ہمارے ہاں بڑے سانحات کے بعد عموماً ایک رسمی سی انکوائری کا اعلان کیا جاتا ہے، چند افسران کو معطل کر کے معاملے کو وقت کی گرد میں دفن کر دیا جاتا ہے، اور متاثرہ خاندان انصاف کی دہلیز پر برسوں در بدر ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں۔ یہی رویہ قانون کی روح کو مجروح کرتا ہے اور ادارہ جاتی لاپروائی کو فروغ دیتا ہے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ جب تک سرکاری غفلت کو فوجداری ذمے داری کے ساتھ جوڑا نہیں جائے گا، اس وقت تک احتساب کا تصور محض ایک نعرہ رہے گا۔ انسانی جان کی قیمت تبھی بحال ہو سکتی ہے جب قانون بلا تفریق نافذ ہو اور یہ پیغام واضح ہو کہ اختیار امانت ہے، ڈھال نہیں۔ گل پلازہ اور لاہور کے مین ہول جیسے واقعات ریاست کے لیے ایک کڑا امتحان ہیں۔ اگر ان سانحات کے ذمے داران کو واقعی قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے تو یہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف ہوگا بلکہ مستقبل میں ایسے المیوں کی روک تھام کے لیے ایک مضبوط مثال بھی قائم کرے گا۔ بالآخر سوال یہی ہے کہ کیا ہم قانون کو صرف کتابوں تک محدود رکھنا چاہتے ہیں یا اسے انسانی جان کے تحفظ کا عملی ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔ فیصلہ ریاستی اداروں کے ہاتھ میں ہے، مگر اس فیصلے کے نتائج پوری قوم کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مین ہول
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔