سہیل آفریدی کا دعویٰ: وزیراعظم سے ملاقات میں عمران خان یا سیاسی امور پر کوئی بات نہیں ہوئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے حالیہ ملاقات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان یا ان کی بہنوں سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات سیاسی امور کے لیے نہیں بلکہ صوبائی ترقیاتی اور مالیاتی مسائل پر مرکوز تھی۔ سہیل آفریدی نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں 2600 ارب روپے کے رکے ہوئے منصوبوں میں سے وزیراعظم نے 26 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت دی ہے، تاکہ ترقیاتی کام بروقت مکمل ہو سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وادی تیراہ، کرم اور باجوڑ کے وہ لوگ جو قربانی دے رہے ہیں، ان کے لیے مختص 4 ارب روپے کوئی معمولی رقم نہیں، اور اسے عوام کی قربانی سے جوڑ کر دیکھنا درست نہیں۔ سہیل آفریدی نے یہ بھی واضح کیا کہ ملاقات میں کسی سیاسی معاملے پر بات نہیں ہوئی اور بانی پی ٹی آئی یا ان کی بہنوں سے ملاقات پر کوئی موضوع زیر بحث نہیں آیا۔دہشتگردی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ دہشتگرد کا نہ کوئی صوبہ ہے اور نہ ہی ملک، اور اس معاملے پر عید کے بعد وزیراعظم سے دوبارہ تفصیلی بات ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبائی حکومت پہلے سے ہی کھل کر اپنی پالیسی اور مؤقف پیش کر رہی ہے تاکہ عوام کی حفاظت اور امن و امان کو یقینی بنایا جا
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔