خیبر پی کے حکومت نے وادی تیراہ متاثرین کیلئے 4 ارب مختص کئے ہیں: شفیع جان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
پشاور (نوائے وقت رپورٹ) معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا وادی تیراہ کے متاثرہ خاندانوں کیلئے چار ارب روپے کے فنڈز کی تفصیلات سے متعلق جاری بیان میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے وادی تیراہ کے متاثرہ خاندانوں کی سہولت کیلئے 4 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات خیبر پی کے شفیع جان نے کہا کہ 31 جنوری 2026ء تک متاثرہ خاندانوں کی ٹرانسپورٹ اور دوران سفر خوراک پر 92 کروڑ روپے خرچ کئے، صوبائی حکومت نے تمام اخراجات کا مکمل آڈٹ ایبل ریکارڈ مرتب کر لیا گیا۔ مرتب ریکارڈ میں ضلعی انتظامیہ اور مقامی مشران کی تصدیق اور وصول کنندہ کے دستخط بمعہ شناختی کارڈ شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے متاثرین کو امدادی معاوضہ پیکیج اور ماہانہ معاونت کی مد میں 2 ارب 40 کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو نادرا رجسٹریشن اور تصدیق کے بعد ڈیجیٹل ادائیگی کی جائے گی۔ امدادی رقوم براہ راست متاثرین کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوں گی۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے تیراہ متاثرین کو امدادی رقوم کی جلد ادائیگی یقینی بنانے کیلئے ایک ہفتے میں ویریفکیشن کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق کے ذمے بقایا متاثرین کے پیسوں کی ادائیگی کیلئے خطوط لکھے جائیں، وزیراعلیٰ کی قدرتی آفات و آپریشنز سے متاثرہ لوگوں کی بحالی و معاونت کیلئے خصوصی فنڈ قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ سہیل آفریدی کو بتایا گیا کہ وادی تیراہ کے متاثرہ 17 ہزار گھرانوں کی رجسٹریشن مکمل کر لی گئی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر تیراہ کے ایک ہزار گھرانوں کو پیسوں کی ادائیگی یقینی بنائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: متاثرہ خاندانوں وادی تیراہ تیراہ کے حکومت نے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔