کراچی:

نکسر (Nixor) کالج نے بین الاقوامی سطح پر ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے ہارورڈ ماڈل یونائیٹڈ نیشنز (HMUN) دبئی کانفرنس میں باوقار ”بیسٹ اسمال ڈیلی گیشن“ کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا۔

13 رکنی طلبا کے وفد کی یہ کامیابی نہ صرف ادارے بلکہ پاکستان کے لیے بھی باعثِ فخر ہے، جو عالمی تعلیمی اور سفارتی فورمز پر ملک کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاس ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ایچ ایم یو این دبئی کا شمار دنیا کی مشکل ترین اور مسابقتی ماڈل یونائیٹڈ نیشنز کانفرنسوں میں ہوتا ہے، جس میں دنیا بھر سے بہترین طلبا شرکت کرتے ہیں۔

’بیسٹ اسمال ڈیلی گیشن‘ کا ایوارڈ ان ٹیموں کے لیے مخصوص ہے جو تمام کمیٹیز میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں، جس کے لیے ہر ڈیلیگیٹ کو اعلیٰ ترین سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا پڑتا ہے۔

اجتماعی ایوارڈ کے علاوہ نکسر کالج کے طلبا نے متعدد انفرادی اعزازات بھی حاصل کیے، جن میں ’بیسٹ ڈیلیگیٹ‘، ’آؤٹ اسٹینڈنگ ڈیلیگیٹ‘، ’آنریبل مینشن‘ اور ’ڈپلومیٹک کمنڈیشنز‘ شامل ہیں۔ یہ اعزازات وفد کی بھرپور تیاری، بہترین سفارت کاری اور بین الاقوامی تعلقات پر ان کی گرفت کا ثبوت ہیں۔

وفد کی کوچنگ روحان ارشد نے کی، جن کی رہنمائی اور حکمت عملی نے ٹیم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ طلبا کی قیادت وفد کے کپتانوں ارمان نرسی، باسم سلمان اور مریم علی نے کی، جن کی انتھک محنت اور کوآرڈینیشن نے تمام کمیٹیز میں بہترین کارکردگی کو ممکن بنایا۔

فاتح وفد میں ارمان نرسی، باسم سلمان، مریم علی، عسل خان، ماہ بی بی بلوچ، عمیر مہیسر، لکش کمار، زینا خان، اوین ہارون، زاران شاہ، دائم عماد ریاض، شہیر جونیجو اور شہیر اصغر شامل تھے۔

طلبا اور کوچنگ اسٹاف نے نکسر کالج کے ڈین سر ندیم غنی اور ای سی اے ہیڈ کوچ عریج کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جن کی قیادت اور انتظامی تعاون نے ایسا ماحول فراہم کیا جس کی بدولت یہ کامیابی ممکن ہو سکی۔

ایچ ایم یو این دبئی میں یہ فتح نکسر کالج کی تعلیمی فضیلت اور لیڈر شپ کے فروغ کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ پاکستان کے لیے ایک فخر کا لمحہ ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی نوجوان سفارت کاری، مباحثے اور علمی گفتگو میں دنیا کے بہترین طلبا کا مقابلہ کرنے اور ان میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نکسر کالج کے لیے

پڑھیں:

بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز  جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔

صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔

شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔

استعفے کی وجہ کیا ہے؟

صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

آئینی طریقہ کار

صدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔

آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔

شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگی

شیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔

گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔

موجودہ حکومت پر دباؤ

شیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔

اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔

2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے

76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین

متعلقہ مضامین

  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری