بھارت نے روس سے تیل خریداری بند کر دی، امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
واشنگٹن :صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان ایک اہم تجارتی معاہدے پر باہمی اتفاق حاصل ہو گیا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی شراکت داری اور تعاون کو مزید مستحکم کرے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق معاہدے کے تحت امریکی حکومت بھارت پر عائد جوابی ٹیرف کو 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کرنے پر راضی ہوئی ہے جبکہ بھارت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ امریکی اشیا پر عائد ٹیرف اور دیگر غیر ٹیرف رکاوٹوں کو صفر تک لے آئے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ بھارت نے روس سے تیل کی خریداری روکنے پر بھی اتفاق کیا ہے اور اب امریکا بھارت کو اضافی تیل کی فراہمی کی اجازت دے گا، جس میں ممکنہ طور پر وینیزویلا سے بھی خریداری شامل ہے۔
ٹرمپ نے مزید بتایا کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے 500 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی امریکی توانائی، ٹیکنالوجی، زرعی اور دیگر اشیا خریدنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس سے امریکی برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
واضح رہے کہ بھارت نے یوکرین جنگ کے تناظر میں روس پر عائد یورپی اور امریکی پابندیوں کے باوجود سستے داموں تیل خریدنا بند نہیں کیا تھا۔ امریکا کی جانب سے بار بار کی تنبیہ کے باوجود بھارت نے موقف اختیار کیا کہ امریکا خود بھی روس سے پیٹرول خریدتا ہے اور یہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے، ٹرمپ نے بھارت کے اس رویے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ٹیرف میں اضافہ کرکے دباؤ قائم رکھا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بھارت نے کہ بھارت کیا ہے
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔