پنجاب کی جیلوں میں 3 ہزار 873 قیدی منشیات استعمال کرنے والے نکل آئے، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
— فائل فوٹو
محکمۂ جیل خانہ جات پنجاب کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں رپورٹ جمع کرا دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں 3 ہزار 873 قیدی منشیات استعمال کرنے والے نکل آئے جبکہ 6 ہزار 293 قیدیوں کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں، 2025ء میں پنجاب کی جیلوں میں 10 ہزار 166 منشیات کے ٹیسٹ کیے گئے تھے۔
جیل خانہ جات کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر جیلوں میں منشیات کے عادی قیدیوں کی اسکریننگ کا نظام نافذ کیا گیا ہے اور ہر جیل میں منشیات کے عادی قیدیوں کے لیے الگ بلاک قائم کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیلوں میں منشیات اسمگلنگ روکنے کے لیے باڈی اسکینرز لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، قیدیوں کی سماجی بحالی کے لیے ہیلتھ اور سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو ذمے داری سونپنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں 72 فیصد قیدیوں کے کیسز زیرِ سماعت ہیں، صوبے کی جیلوں میں کُل قیدیوں کی تعداد 70 ہزار 739 ہے، روزانہ اوسطاً 7 ہزار 500 قیدی عدالتوں میں پیش کیے جاتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پنجاب کی جیلوں میں گیا ہے
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔