ججز جذبات نہیں، آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کریں، وفاقی آئینی عدالت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی فیصلوں کی بنیاد ہمدردی، ذاتی اخلاقیات یا جذبات نہیں بلکہ صرف اور صرف آئین اور قانون ہونا چاہیے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر ججز قانون کے بجائے ذاتی احساسات کو بنیاد بنائیں تو یہ نہ صرف عدالتی نظم و ضبط کو کمزور کرتا ہے بلکہ ریاستی نظام کو بھی نقصان پہنچاتا ہے کیونکہ پاکستان افراد نہیں بلکہ آئین کے تحت چلنے والی ایک ریاست ہے۔
مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت نے اس اصول کو دہرایا کہ ججز کا بنیادی فریضہ بلا خوف و امتیاز قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ذاتی نیک نیتی، ہمدردی یا اخلاقی جذبہ قانون کی جگہ نہیں لے سکتا اور نہ ہی کسی عدالتی فورم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قانون میں موجود نہ ہونے والی سہولت یا رعایت محض ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کرے۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ سندھ ہائی کورٹ کے ایک حکم کے خلاف دیا گیا، جس میں ایک طالبعلم کو اسپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ قوانین، ضابطوں یا تعلیمی ریگولیشنز میں ایسے کسی امتحان کی اجازت موجود نہیں، اس لیے ہائی کورٹس آئینی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ایسے احکامات جاری نہیں کر سکتیں۔
عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹس کا دائرہ اختیار محدود ہے اور وہ صرف وہی اختیارات استعمال کر سکتی ہیں جو آئین یا قانون میں صراحت کے ساتھ دیے گئے ہوں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالتی ساکھ جذباتی فیصلوں سے نہیں بلکہ قانون کی سختی سے پاسداری میں مضمر ہے۔ اگر عدالتیں قانون سے ہٹ کر فیصلے کرنا شروع کر دیں تو انصاف کا نظام عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ہائی کورٹس خود آئین کی تخلیق ہیں اور ان کا وجود آئینی حدود کے اندر رہ کر ہی بامقصد رہ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم گردے کی پیوندکاری کے باعث سالانہ اور سپلیمنٹری امتحان میں شرکت نہ کر سکے تھے۔ طبی وجوہات کی بنیاد پر طالبعلم نے یونیورسٹی انتظامیہ کو درخواستیں دیں، تاہم ضوابط کے تحت انہیں مسترد کر دیا گیا۔ بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے ہمدردی کی بنیاد پر طالبعلم کو خصوصی امتحان میں شرکت کی اجازت دی، جسے وفاقی آئینی عدالت نے کالعدم قرار دے دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت نے کی بنیاد
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔