دکانداروں نے گاہکوں کو باہر نکلنے سے روکا، سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات میں اہم انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، پولیس کو میزنائن، فرسٹ اور سکینڈ فلور کی سی سی ٹی وی ویڈیوز نہیں مل سکی ہیں۔انکوائری کمیٹی نے آتشزدگی کے 20 منٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر لی ہیں، میزنائن فلور کی سی سی ٹی وی کو مقدمہ اور انکوائری کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق آگ سوا 10 بجے لگی جبکہ آگ لگنے کے آدھے گھنٹے بعد بھی دکانیں کھلی رہیں اور سی سی ٹی وی میں11 بجے تک دکاندار اور گاہک بیٹھے نظر آئے۔فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے شہریوں کو نکالنے کے بجائے آتے ہی پانی مارنا شروع کیا۔ زیادہ تر افراد نکل گئے جبکہ 25 سے 30 افراد دبئی کراکری شاپ میں رک گئے، دبئی کراکری شاپ کے دکانداروں کی جانب سے لوگوں کو باہر نکلنے سے روکا گیا۔ریسکیو کرنے والے ایک دکاندار کے مطابق اس نے 150 کے قریب گاہگوں کو راستہ دکھایا۔ دبئی کراکری شاپ میں موجود لوگوں سے چلنے کوکہا مگر دکانداروں نے روک دیا۔دکانداروں نے کہا کہ آگ بجھ جائے گی کہیںمت جائیں۔ ان ہی 30 افراد کی باقیات دبائی کراکری شاپ سے ملی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سی سی ٹی کراکری شاپ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔