اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ آئین میں ہائیکورٹس کا دائرہ اختیار محدود ہے، اسی کے مطابق جذبات کے بجائے قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے۔
 نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت ایک طالبعلم کوسپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی، عدالت نے واضح کیا کہ قانون، ضابطے یا ریگولیشن میں سپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان کی اجازت موجود نہیں، اس لیے ہائی کورٹس ہمدردی، مساوات یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر ایسے احکامات جاری نہیں کر سکتیں۔

اوجی ڈی سی ایل غیرقانونی بھرتی کیس ،سابق وزیر انور سیف اللہ بری 

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہمدردی یا اخلاقیات قانون کی جگہ نہیں لے سکتے، ججز انصاف سے فیصلے کریں، ججز کو جذبات نہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے ، عدالتیں ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی کی بنیاد پر قانون کی جگہ کوئی اور معیار لاگو نہیں کر سکتیں۔

یہ بھی قرار دیا گیا کہ عدالتی فیصلوں کی بنیاد ذاتی عقائد یا سیاسی حقائق نہیں بن سکتے، عدالتی ساکھ جذباتی فیصلوں میں نہیں بلکہ قانون پر عمل درآمد میں مضمر ہے، ججز کو بلا خوف و امتیاز قانون کے مطابق انصاف کرنا ہوتا ہے کیوں کہ پاکستان افراد نہیں بلکہ آئین کے تحت چلنے والی ریاست ہے، ججز نجی افراد نہیں بلکہ غیرجانبدار منصف ہوتے ہیں ، ہمدردی کو قانونی ذمہ داری پر ترجیح دینا عدالتی منصب سے انحراف کے مترادف ہے۔

آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ، عثمان انور ڈی جی ایف آئی اے تعینات

عدالت نے قرار دیا کہ ہائی کورٹس خود آئین کی تخلیق ہیں، پاکستان کا آئینی سفر ہمیشہ قانون کے دائرے میں طے ہوا ہے، جہاں ذاتی نیک نیتی یا بے لگام اختیار آئینی نظام کا حصہ نہیں، ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت محدود دائرہ اختیار رکھتی ہیں، وہ صرف وہی اختیار استعمال کر سکتی ہیں جو آئین یا قانون میں دیا گیا ہو، عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی عدالتی فورم کو آئینی حدود سے تجاوز کا اختیار حاصل نہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ آرٹیکل 187 کے تحت ہمدردی کا اختیار اگر موجود ہے تو صرف سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کو حاصل ہے۔

سانحہ بھاٹی گیٹ کی شفاف تحقیقات کیلئے درخواست پر فریقین سے 3 مارچ کو جواب طلب

یاد رہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم گردے کی پیوندکاری کے باعث سالانہ امتحان میں شریک نہ ہو سکے تھے، طبی وجوہات کی بنا پر وہ سپلیمنٹری امتحان بھی مس کر گئے، طالبعلم نے اس سلسلے میں وائس چانسلر کو 2 درخواستیں دی تھیں، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے دونوں درخواستیں مسترد کر دیں۔

بعد ازاں طالبعلم نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں انہیں سپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی، تاہم وفاقی آئینی عدالت نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسے احکامات قانون اور آئین کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی نہ صرف ماحولیاتی مسئلہ ہے بلکہ ایک انسانی اور سماجی و اقتصادی چیلنج بھی ہے، قونصل جنرل

وفاقی آئینی عدالت کا یہ اہم فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے 18 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے کی صورت میں جاری کیا ہے۔
 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: وفاقی ا ئینی عدالت سپلیمنٹری امتحان ا ئینی عدالت نے قانون کے مطابق دائرہ اختیار نہیں بلکہ سندھ ہائی قرار دیا آئین کے کے تحت

پڑھیں:

بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔

عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثر

واضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا

عوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

واضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب

اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔

ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…

— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026

حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔

آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالات

حملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔

عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاری

بعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

ایک روز قبل مسافر بس پر حملہ

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔

حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن