data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان میں جنوری 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح معمولی اضافے کے بعد 5.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو مارکیٹ اور وزارت خزانہ کے اندازوں کے مطابق ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر اوسط اضافہ مجموعی طور پر مستحکم رہا، تاہم اس کے باوجود شرح سود کو دہرے ہندسوں میں برقرار رکھنے کے فیصلے پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح 5.

8 فیصد پر مستحکم رہی جب کہ دیہی علاقوں میں یہ شرح معمولی اضافے کے ساتھ اسی سطح پر آ گئی۔ نان فوڈ اور نان انرجی اشیا پر مشتمل کور مہنگائی شہری علاقوں میں قدرے بڑھی جب کہ دیہی علاقوں میں اس میں کمی دیکھنے میں آئی۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ کور مہنگائی گزشتہ کئی ماہ سے تقریباً 7.4 فیصد کی سطح پر مستحکم ہے، جو پالیسی سازوں کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

مرکزی بینک نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ صارفین اور کاروباری اداروں کی مہنگائی سے متعلق توقعات میں واضح کمی آئی ہے اور آئندہ دو مالی سالوں میں مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر رہنے کا امکان ہے۔ اس کے باوجود شرح سود میں کمی نہ کیے جانے پر صنعتی اور کاروباری حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ بلند شرح سود سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کو معیشت کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں کمی کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ملک کو اس وقت تیز رفتار معاشی ترقی کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ بڑھتی ہوئی غربت اور بے روزگاری معاشرتی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی پالیسی میں نرمی سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران تقریباً 7 لاکھ 62 ہزار پاکستانی بہتر روزگار کی تلاش میں بیرون ملک چلے گئے، جو ملکی معیشت میں روزگار کے مواقع کی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شرح سود میں مناسب کمی کی جائے تو صنعت، تجارت اور تعمیرات کے شعبے میں بہتری آ سکتی ہے، جس سے مجموعی معاشی بحالی ممکن ہو گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: علاقوں میں کے مطابق

پڑھیں:

توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ