مہنگائی مستحکم مگر شرح سود میں کمی نہ ہونے پر سوالات برقرار، وزیراعظم کی اہم ہدایات
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں جنوری 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح معمولی اضافے کے بعد 5.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو مارکیٹ اور وزارت خزانہ کے اندازوں کے مطابق ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر اوسط اضافہ مجموعی طور پر مستحکم رہا، تاہم اس کے باوجود شرح سود کو دہرے ہندسوں میں برقرار رکھنے کے فیصلے پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح 5.
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ کور مہنگائی گزشتہ کئی ماہ سے تقریباً 7.4 فیصد کی سطح پر مستحکم ہے، جو پالیسی سازوں کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
مرکزی بینک نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ صارفین اور کاروباری اداروں کی مہنگائی سے متعلق توقعات میں واضح کمی آئی ہے اور آئندہ دو مالی سالوں میں مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر رہنے کا امکان ہے۔ اس کے باوجود شرح سود میں کمی نہ کیے جانے پر صنعتی اور کاروباری حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ بلند شرح سود سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کو معیشت کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں کمی کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ملک کو اس وقت تیز رفتار معاشی ترقی کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ بڑھتی ہوئی غربت اور بے روزگاری معاشرتی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی پالیسی میں نرمی سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران تقریباً 7 لاکھ 62 ہزار پاکستانی بہتر روزگار کی تلاش میں بیرون ملک چلے گئے، جو ملکی معیشت میں روزگار کے مواقع کی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شرح سود میں مناسب کمی کی جائے تو صنعت، تجارت اور تعمیرات کے شعبے میں بہتری آ سکتی ہے، جس سے مجموعی معاشی بحالی ممکن ہو گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علاقوں میں کے مطابق
پڑھیں:
کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
کراچی:شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے افسوسناک حادثات کے نتیجے میں تین افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق بلوچ کالونی کے علاقے کشمیر کالونی نالے والے روڈ پر نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے ایک 20 سالہ راہگیر جاں بحق ہوگیا۔
اطلاع ملنے پر چھیپا کے رضاکار موقع پر پہنچے اور لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا جہاں متوفی کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
دوسرا واقعہ ایف سی ایریا کے ایک اپارٹمنٹ میں پیش آیا جہاں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔
چھیپا حکام کے مطابق متوفی کی لاش عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی جہاں اس کی شناخت 40 سالہ اظہر احمد کے نام سے ہوئی۔
ادھر قیوم آباد میں جام صادق پل پر تیز رفتار ٹریلر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
ریسکیو اہلکاروں نے لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا جہاں متوفی کی شناخت 40 سالہ شکیل کے نام سے کی گئی۔