جیفری ایپسٹین کی فائلز میں عمران خان کا نام
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان یا پاکستانی شہری جیفری ایپسٹین کی نئی دستاویز میں زیادہ نظر نہیں آئے تاہم فائلز میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے نام ضرور موجود ہیں۔
ایپسٹین اور بل گیٹس کی ٹیم کے درمیان بعض ای میلز میں پولیو پروگرام پر بات ہوئی ہے جن میں سے چند میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے سابق مشیر بورس نکولیک بھی ہیں۔
ایک ای میل میں ایک شخص جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی وہ ایپسٹین کو آگاہ کرتا ہے کہ پاکستان اور نائجیریا میں پولیو ٹیموں پر حملے کیے جارہے ہیں تو ایپسٹین اس ضمن میں کیا کردار ادا کرسکتا ہے؟
ایپسٹین اور جے پی مارگن کے ایگزیکٹو جس اسٹینلے کے درمیان 2010 کو بھیجی گئی ای میل میں کچھ اہم غیرملکی شخصیات کی ایپسٹین سے ملاقات کا وعدہ کیا گیا ہے، ان شخصیات میں اس دور کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا نام بھی آتا ہے۔
نکولیک اور ایپسٹین کے درمیان ایک ای میل میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بل گیٹس پاکستانی میڈیا سے خوش نہیں تھے کہ اس نے عمران خان سے انکی ٹیلی فون پر بات کو رپورٹ کردیا ہےکیونکہ بل گیٹس کو خدشہ تھا کہ کہیں اس سے پولیو مہم پر اثر نہ پڑ جائے۔
ایک اور ای میل میں جو کہ ستمبر 2018 سے متعلق ہے اس میں گولڈمین سیکس کے جیڈ زیٹلین، ایپسٹین کو یہ لکھتے ہیں کہ چین کی جانب سے سہاروں کے باوجود عمران خان کی قیادت سلوموشن میں گاڑی کو حادثے کے مترادف ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایک ای میل میں جیفری ایپسٹین نےدعویٰ کیا تھا کہ اسے پاکستانی شلوار کرتا بہت پسند ہے۔
ایپسٹین نے پوچھا تھا کہ اس پینٹ کو کیا کہتے ہیں جس پر اسے جواب دیا گیا تھا کہ پینٹ کو شلوار اور قمیض کو کرتا کہتے ہیں۔
یہ لباس بھارتی پارٹیوں میں بھی پہنا جاسکتا ہے جس پر ایپسٹین نے کہا تھا کہ وہ قیمت ادا کرکے 5 مزید جوڑے خریدنا پسند کرے گا مگر شرٹ کا سائز تھوڑا بڑا ہونا چاہیے۔
ای میل میں ایپسٹین کو بتایا جاتا ہے کہ 5 پاکستانی ملبوسات کی شپمنٹ جلد پہنچ رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک