ایپسٹین فائلز: نواز شریف کے بجائے عمران خان کو کیوں موثر شخصیت قرار دیا گیا؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
جنسی اسمگلنگ کی دنیا کے بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں حال ہی میں جاری ہونے والی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ 2013 کی ایک اندرونی سفارتی ای میل میں اقوامِ متحدہ کی ایک سابق عہدیدار نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو ’لندن کی اشرافیہ میں نمایاں شخصیت‘ قرار دیا تھا۔
یہ حوالہ اقوامِ متحدہ کی سابق اہلکار نصرہ حسن کی جانب سے ناروے کے سفارت کار تیرژے رود لارسن کو بھیجی گئی ایک ای میل میں سامنے آیا، جو اُس وقت انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ کے صدر تھے۔
ای میل میں مغربی حمایت یافتہ عالمی صحت منصوبوں، خصوصاً پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں، کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی جا رہی تھی۔
نواز شریف کے مقابلے میں عمران خان کو زیادہ مؤثر قرار دیا گیاای میل میں نصرہ حسن نے عمران خان کو لندن کے بااثر سماجی حلقوں میں ایک معروف شخصیت قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ان کے عالمی روابط اور مغربی دارالحکومتوں تک رسائی انہیں حساس سفارتی معاملات میں اُس وقت کے نو منتخب وزیر اعظم نواز شریف کے مقابلے میں زیادہ مؤثر رابطہ ذریعہ بنا سکتی ہے۔
اس خط و کتابت کے وقت عمران خان اپوزیشن لیڈر اور عالمی شہرت یافتہ سابق کرکٹ اسٹار تھے، جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف نے خیبر پختونخوا میں اپنی پہلی صوبائی حکومت قائم کرچکی تھی۔ یہ صوبہ اُس وقت پولیو ویکسینیشن مہمات کے خلاف مزاحمت کے باعث عالمی سطح پر تشویش کا مرکز بنا ہوا تھا۔
مغربی حلقوں کی توقعات اور پولیو مہمای میل سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کا خیال تھا کہ عمران خان کی عالمی پہچان اور مغربی شخصیات سے قریبی تعلقات اُن علاقوں میں صحت سے متعلق تعاون کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں جہاں سیاسی اور سماجی رکاوٹیں درپیش تھیں۔
یہ خط و کتابت اُن وسیع دستاویزات کا حصہ ہے جو امریکی محکمۂ انصاف نے جیفری ایپسٹین کے مالی اور پیشہ ورانہ نیٹ ورک کے جائزے کے دوران جاری کی ہیں۔
ان ای میلز میں عالمی صحت کے معروف علمبردار بل گیٹس اور افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی سمیت دیگر علاقائی و عالمی شخصیات کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عمران خان کو میل میں
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس