‘لڑکی 12 سال کی نہیں لگتی،’ وفاقی آئینی عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دیدی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے پسند کی شادی کے کیس میں ماریہ نامی لڑکی کو اپنے شوہر شہر یار کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے لڑکی کے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ مبینہ جعلی نکاح کے حوالے سے متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔
لڑکی ماریہ نے عدالت میں کہا کہ انہیں کسی نے اغوا نہیں کیا اور انہوں نے مرضی سے شہر یار سے شادی کی۔ لڑکی کے والدین کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بچی کی عمر 12 سال ہے اور کم سن بچی کا نکاح نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیے: مستونگ، پسند کی شادی کرنے والا جوڑا 7 سال بعد غیرت کے نام پر قتل
جسٹس حسن اظہر رضوی نے سماعت کے دوران کہا کہ لڑکی کسی طور پر 12 سال کی نہیں لگتی، اور اس نے مجسٹریٹ کے روبرو سیکشن 164 کا بیان بھی دیا ہے۔ عدالت نے مزید نوٹ کیا کہ لڑکی خود کو بالغ بتا رہی ہے اور وہ اغوا کے خلاف موقف رکھتی ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے بتایا کہ لڑکی کی شادی کو 6 ماہ گزر چکے ہیں اور شادی سے قبل لڑکی نے اسلام قبول کیا۔
جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے پسند کی شادی کے معاملے کو نمٹا دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئینی عدالت پسند کی شادی جج شادی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئینی عدالت پسند کی شادی پسند کی شادی عدالت نے
پڑھیں:
کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
فائل فوٹوکراچی کے علاقے احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش ملی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کی موت بظاہر طبعی لگتی ہے، مزید تحقیقات کر رہے ہیں، :لڑکی کی رات گئے طبعیت خراب ہوئی تھی، انسٹیٹیوٹ میں اسپتال بھی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ کے ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی۔