Express News:
2026-06-02@23:20:53 GMT

شہرت اور رسوائی جڑواں بہنیں

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

باقی صدیقی کا شعر ہے

کچھ ایسی بات اڑی ہے ہمارے گاؤں میں

کہ چھپتے پھرتے ہیں ہم’’بیریوں‘‘ کی چھاؤں میں

جس طرح غم اور خوشی جڑواں بہنیں ہیں اسی طرح یہ ’’شہرت‘‘ اور’’رسوائی‘‘ بھی جڑواں بہنیں رہیں۔بلکہ اتنی مشابہ اور ہم شکل ہیں کہ اکثر لوگ ان کے درمیان فرق بھی معلوم نہیں کرپاتے اور اسی بات نے بیچارے ہمارے یار مرحوم خاطر غزنوی کو بہت پریشان کیا ہوا تھا کہ ؎

میں اسے ’’شہرت‘‘ کہوں یا اپنی رسوائی کہوں

مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے

لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ کچھ لوگ اتنے’’ذہین و فتین‘‘ ہوتے ہیں بلکہ ’’موجد‘‘ اور اختراع ساز ہوتے ہیں کہ ’’رسوائی‘‘ کو بھی شہرت بناسکتے ہیں بلکہ بنا ’’لیتے‘‘ ہیں۔جیسے کچھ عرصہ پہلے ہمارے ہاں ہراسانی، ہراسگی اور ہراسمنٹ کا’’سیزن‘‘ چلا تھا اور جسے پڑوسی ملک کے مقام مومبائی بمقام گالی وڈ میں ’’می ٹو‘‘ کا پرکشش نام دیا گیا تھا۔ یہ موسم نہ چلا ہوتا تو ہمیں ہرگز پتہ نہ چلتا کہ ’’ایشایشع‘‘فیشا فشیح کون ہے اور ڈلی ڈفر کون ہے۔ چنانچہ سنا ہے کہ مومبائی بمقام گالی وڈ میں ملک بھر کی سپوتنیاں ماچس کی ڈبیہ کو اپنا ’’سوٹ‘‘ بناکر آتی ہیں اور ’’می ٹو‘‘ کی برکت سے مالا مال ہوکر جاتی ہیں۔اکثر ایسے مکالمات بھی سننے میں آتے ہیں کہ اری نیییا،ویہا یا جیرہ۔تمہیں ابھی تک کوئی ’’بریک تھرو‘‘ نہیں ملا۔نہیں ملنے ہی والا ہے ایک’’می ٹو‘‘ ہونے دو یا ایک اچھے سے ’’می ٹو‘‘کا انتظار ہے۔دعا کرو کوئی ڈھنگ کا می ٹو مل جائے یا کیا کروں اچھا سا ’’می ٹو‘‘ نہیں مل رہا یا کیا کروں یہ انانا ،منانا،بیتا یا شبیتا بڑی لکی ہیں کم بخت کو بہت زبردست’’می ٹو‘‘ مل گیا۔یا فلاں تو کوئی چیز ہی نہیں تھی لیکن ’’می ٹو‘‘ اچھا مل گیا۔ اسے تو اداکاری کی الف ب بھی نہیں آتی لیکن می ٹو کی برکت سے ہیروئن بن گئی۔مطلب یہ کہ رسوائی اور شہرت میں پیاز کی جھلی جتنا بھی فرق نہیں۔پلک جھپکنے میں ’’یہ‘‘۔’’وہ‘‘ ہوسکتی یا وہ ’’یہ‘‘ میں ڈھل سکتی ہے۔یعنی جس چیز سے لوگ بچنے کی کوشش کرتے تھے آج آگے بڑھ بڑھ کر اسے گلے لگانے کو بے قرار رہتے ہیں اور ایک پرانی مردہ کہاوت زندہ بلکہ پائندہ ہوگئی ہے کہ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔اور نام ہی تو سب کچھ ہے نام مل جائے تو ’’دام‘‘ ہی دام دونوں ہی دام۔ وہ بھی جو پرندوں کو پکڑنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں یعنی

دام ہمرنگ زمیں بود گرفتار و شدم

اور وہ’’دام‘‘ بھی جسے کیش و دعشق کہتے ہیں

درم ودام اپنے پاس کہاں

چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں

اور یہ دونوں’’ دام‘‘ ان دونوں جڑواں بہنوں شہرت اور رسوائی کے غلام بے دام ہیں یا ہوگئے ہیں۔  لیکن اگلے زمانوں میں رسوائی واقعی رسوائی ہوتی تھی شہرت نہیں بنتی تھی۔اور یہ بھی کہ جب ایک دفعہ چمٹ جاتی تھی تو چھٹتی نہیں تھی نام سے یہ کافر لگی ہوئی۔کافی عرصہ پہلے کی بات ہے جب سیاست، جمہوریت اور مذہب کی اس عظیم اور بین الاقوامی تجربہ گاہ پاکستان میں ’’بنیادی جمہوریت‘‘کا تجربہ لانچ ہورہا تھا جو اس زمانے کے آئن سٹائن ایوب خان نے ایجاد کیا تھا۔

جس میں صرف یونین کونسلر ہی ایم این اے ،ایم پی اے کے لیے ووٹ دیتے تھے اور نوٹ پاتے تھے۔ گنے چنے ووٹ تھے اس لیے امیدوار اپنی گاڑی میں نوٹوں کے بنڈل’’سٹپل‘‘ نکالے بغیر گھومتے تھے۔ قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں مقابلہ ایک’’میاں صاحب‘‘ اور ایک ٹھیکیدار کے درمیان تھا دونوں کے پاس اجداد کی اور پھر اپنی خداداد استعداد کی وجہ سے بے پناہ ’’داد‘‘ تھی۔اس لیے ووٹوں اور نوٹوں کے درمیان گھمسان کا رن پڑا تھا۔ایک گاؤں کے ایک کونسلر کو میاں صاحب کے آدمیوں نے ٹھیکیدار کے آدمیوں سے توڑ لیا تھا۔لین دین ایک مقام پر ہورہی تھی نوٹوں کے بنڈل کونسلر کی جھولی میں منتقل ہوگئے، دعائے خیر ہوئی اور لوگ اٹھنے لگے تو کونسلر صاحب بھی نوٹوں کو جھولی میں سنبھال کر اٹھے تو اتفاق سے ’’تقاضائے بشری‘‘ کے تحت جسم سے تھوڑی سی ہوا نکل گئی لیکن خاموشی کی بجائے نہایت تیز آواز کے ساتھ، نوٹوں کا وزن شاید زیادہ ہوگیا تھا اور یہ آواز سن بھی لی گئی، بقول لتا منگیشکر

دنیا نے سن لی چپکے سے اپنی پریم کہانی

میں تو ہوگئی شرم سے پانی پانی

اب پشتونوں کا معاشرہ بھی بہت ٹیڑھا میڑھا سا معاشرہ ہے جس میں اس قدرتی اور فطری اور بشری ’’آواز‘‘ کو نہایت بُری شہرت حاصل ہے اگر کسی کے نام سے ایک مرتبہ چپک جائے تو پھر کسی کیمیکل سے بھی نہیں چھوٹتی، بہت ہی ضدی داغ ہے۔ایسے شخص کا اپنا نام بھی یہ داغ کھا لیتا ہے اور وہ دور دور تک اسی نام سے شہرت یا رسوائی حاصل کرلیتا ہے ،اس کا اصل نام لیے بغیر ہم اسے ’’ٹیزن‘‘ کا فرضی نام دیے دیتے ہیں چنانچہ وہ صاحب بھی ٹیزن ہوگیا جو بھی اس کا ذکر کرتا، کہتا اچھا وہ وہ ٹیزن۔ کل مجھے وہ ٹیزن ملا تھا۔یار مجھے اس ٹیزن سے ایک کام ہے۔بیل کس سے خریدے۔ اس ٹیزن سے۔بھینس کس کو بیچی؟اس ٹیزن کو۔اس کا محلہ اس کے کھیت اس کے جانور اس کی اولاد سب ٹیزن سے موسوم ہوگئے۔

خیر وہ بیچارا تو جب تک بقیدحیات رہا اس نام کا بھی قیدی رہا۔لیکن اسی شہرتوں کے ساتھ ایک پرابلم یہ بھی ہے کہ ایسی شہرت یا رسوائی پورے خاندان کو لاحق ہوجاتی ہے جیسے ہمارے ہاں اکثر ایسے خاندان پائے جاتے، میاں گان۔ خانزادگان، اخون زادگان، بابوگان، لوہاران، ترکانان، جلاگان زرگران وغیرہ۔حالانکہ وہ شہرت کسی ایک فرد نے حاصل کی ہوتی ہے۔ہمارے اپنے ایک رشتہ دار کا نام حضرت سید تھا حالانکہ وہ ’’سید‘‘ نہیں تھا۔لیکن صرف ایک لفظ سے وہ پورا خاندان سیدان ہوگیا تھا۔چنانچہ اس ٹیزن کی وفات ذریعہ نجات کے بعد یہ نام اس کے پورے خاندان سے چپک گیا جو بھی ان میں سے کسی کا ذکر کرتا یا حوالہ دیتا کہ اچھا وہ وہ ٹیزن۔کونسا خالد اسلم یا سلیم؟۔وہ ٹیزن۔ایک دو پیڑیاں تو یہ تمغہ امتیاز برداشت کرتی رہیں لیکن تیسری ماڈرن تعلیم یافتہ پیڑھی جس میں اچھی شہرت کے حامل افسر اور لائق فائق نوجوان بھی تھے۔ان سے برداشت نہیں ہوپایا اور ایک دن اپنا سب کچھ بیچ باچھ کر کسی شہر میں گم ہوگئے

خود اپنے سے ملنے کا بھی یارا نہ تھا مجھ میں

میں بھیڑ میں گم ہوگیا تنہائی کے ڈر سے

لیکن بات ختم کہاں ہوئی ہے وہ تو چلے گئے لیکن ان کے گھر،کھیت اور کئی چیزیں اب بھی سزا بھگت رہی ہیں اور اسی نسبت سے موسوم ہیں

یہ نشان عشق ہیں جاتے نہیں

داغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وہ ٹیزن اس ٹیزن

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی