Express News:
2026-07-24@04:05:09 GMT

شہرت اور رسوائی جڑواں بہنیں

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

باقی صدیقی کا شعر ہے

کچھ ایسی بات اڑی ہے ہمارے گاؤں میں

کہ چھپتے پھرتے ہیں ہم’’بیریوں‘‘ کی چھاؤں میں

جس طرح غم اور خوشی جڑواں بہنیں ہیں اسی طرح یہ ’’شہرت‘‘ اور’’رسوائی‘‘ بھی جڑواں بہنیں رہیں۔بلکہ اتنی مشابہ اور ہم شکل ہیں کہ اکثر لوگ ان کے درمیان فرق بھی معلوم نہیں کرپاتے اور اسی بات نے بیچارے ہمارے یار مرحوم خاطر غزنوی کو بہت پریشان کیا ہوا تھا کہ ؎

میں اسے ’’شہرت‘‘ کہوں یا اپنی رسوائی کہوں

مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے

لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ کچھ لوگ اتنے’’ذہین و فتین‘‘ ہوتے ہیں بلکہ ’’موجد‘‘ اور اختراع ساز ہوتے ہیں کہ ’’رسوائی‘‘ کو بھی شہرت بناسکتے ہیں بلکہ بنا ’’لیتے‘‘ ہیں۔جیسے کچھ عرصہ پہلے ہمارے ہاں ہراسانی، ہراسگی اور ہراسمنٹ کا’’سیزن‘‘ چلا تھا اور جسے پڑوسی ملک کے مقام مومبائی بمقام گالی وڈ میں ’’می ٹو‘‘ کا پرکشش نام دیا گیا تھا۔ یہ موسم نہ چلا ہوتا تو ہمیں ہرگز پتہ نہ چلتا کہ ’’ایشایشع‘‘فیشا فشیح کون ہے اور ڈلی ڈفر کون ہے۔ چنانچہ سنا ہے کہ مومبائی بمقام گالی وڈ میں ملک بھر کی سپوتنیاں ماچس کی ڈبیہ کو اپنا ’’سوٹ‘‘ بناکر آتی ہیں اور ’’می ٹو‘‘ کی برکت سے مالا مال ہوکر جاتی ہیں۔اکثر ایسے مکالمات بھی سننے میں آتے ہیں کہ اری نیییا،ویہا یا جیرہ۔تمہیں ابھی تک کوئی ’’بریک تھرو‘‘ نہیں ملا۔نہیں ملنے ہی والا ہے ایک’’می ٹو‘‘ ہونے دو یا ایک اچھے سے ’’می ٹو‘‘کا انتظار ہے۔دعا کرو کوئی ڈھنگ کا می ٹو مل جائے یا کیا کروں اچھا سا ’’می ٹو‘‘ نہیں مل رہا یا کیا کروں یہ انانا ،منانا،بیتا یا شبیتا بڑی لکی ہیں کم بخت کو بہت زبردست’’می ٹو‘‘ مل گیا۔یا فلاں تو کوئی چیز ہی نہیں تھی لیکن ’’می ٹو‘‘ اچھا مل گیا۔ اسے تو اداکاری کی الف ب بھی نہیں آتی لیکن می ٹو کی برکت سے ہیروئن بن گئی۔مطلب یہ کہ رسوائی اور شہرت میں پیاز کی جھلی جتنا بھی فرق نہیں۔پلک جھپکنے میں ’’یہ‘‘۔’’وہ‘‘ ہوسکتی یا وہ ’’یہ‘‘ میں ڈھل سکتی ہے۔یعنی جس چیز سے لوگ بچنے کی کوشش کرتے تھے آج آگے بڑھ بڑھ کر اسے گلے لگانے کو بے قرار رہتے ہیں اور ایک پرانی مردہ کہاوت زندہ بلکہ پائندہ ہوگئی ہے کہ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔اور نام ہی تو سب کچھ ہے نام مل جائے تو ’’دام‘‘ ہی دام دونوں ہی دام۔ وہ بھی جو پرندوں کو پکڑنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں یعنی

دام ہمرنگ زمیں بود گرفتار و شدم

اور وہ’’دام‘‘ بھی جسے کیش و دعشق کہتے ہیں

درم ودام اپنے پاس کہاں

چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں

اور یہ دونوں’’ دام‘‘ ان دونوں جڑواں بہنوں شہرت اور رسوائی کے غلام بے دام ہیں یا ہوگئے ہیں۔  لیکن اگلے زمانوں میں رسوائی واقعی رسوائی ہوتی تھی شہرت نہیں بنتی تھی۔اور یہ بھی کہ جب ایک دفعہ چمٹ جاتی تھی تو چھٹتی نہیں تھی نام سے یہ کافر لگی ہوئی۔کافی عرصہ پہلے کی بات ہے جب سیاست، جمہوریت اور مذہب کی اس عظیم اور بین الاقوامی تجربہ گاہ پاکستان میں ’’بنیادی جمہوریت‘‘کا تجربہ لانچ ہورہا تھا جو اس زمانے کے آئن سٹائن ایوب خان نے ایجاد کیا تھا۔

جس میں صرف یونین کونسلر ہی ایم این اے ،ایم پی اے کے لیے ووٹ دیتے تھے اور نوٹ پاتے تھے۔ گنے چنے ووٹ تھے اس لیے امیدوار اپنی گاڑی میں نوٹوں کے بنڈل’’سٹپل‘‘ نکالے بغیر گھومتے تھے۔ قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں مقابلہ ایک’’میاں صاحب‘‘ اور ایک ٹھیکیدار کے درمیان تھا دونوں کے پاس اجداد کی اور پھر اپنی خداداد استعداد کی وجہ سے بے پناہ ’’داد‘‘ تھی۔اس لیے ووٹوں اور نوٹوں کے درمیان گھمسان کا رن پڑا تھا۔ایک گاؤں کے ایک کونسلر کو میاں صاحب کے آدمیوں نے ٹھیکیدار کے آدمیوں سے توڑ لیا تھا۔لین دین ایک مقام پر ہورہی تھی نوٹوں کے بنڈل کونسلر کی جھولی میں منتقل ہوگئے، دعائے خیر ہوئی اور لوگ اٹھنے لگے تو کونسلر صاحب بھی نوٹوں کو جھولی میں سنبھال کر اٹھے تو اتفاق سے ’’تقاضائے بشری‘‘ کے تحت جسم سے تھوڑی سی ہوا نکل گئی لیکن خاموشی کی بجائے نہایت تیز آواز کے ساتھ، نوٹوں کا وزن شاید زیادہ ہوگیا تھا اور یہ آواز سن بھی لی گئی، بقول لتا منگیشکر

دنیا نے سن لی چپکے سے اپنی پریم کہانی

میں تو ہوگئی شرم سے پانی پانی

اب پشتونوں کا معاشرہ بھی بہت ٹیڑھا میڑھا سا معاشرہ ہے جس میں اس قدرتی اور فطری اور بشری ’’آواز‘‘ کو نہایت بُری شہرت حاصل ہے اگر کسی کے نام سے ایک مرتبہ چپک جائے تو پھر کسی کیمیکل سے بھی نہیں چھوٹتی، بہت ہی ضدی داغ ہے۔ایسے شخص کا اپنا نام بھی یہ داغ کھا لیتا ہے اور وہ دور دور تک اسی نام سے شہرت یا رسوائی حاصل کرلیتا ہے ،اس کا اصل نام لیے بغیر ہم اسے ’’ٹیزن‘‘ کا فرضی نام دیے دیتے ہیں چنانچہ وہ صاحب بھی ٹیزن ہوگیا جو بھی اس کا ذکر کرتا، کہتا اچھا وہ وہ ٹیزن۔ کل مجھے وہ ٹیزن ملا تھا۔یار مجھے اس ٹیزن سے ایک کام ہے۔بیل کس سے خریدے۔ اس ٹیزن سے۔بھینس کس کو بیچی؟اس ٹیزن کو۔اس کا محلہ اس کے کھیت اس کے جانور اس کی اولاد سب ٹیزن سے موسوم ہوگئے۔

خیر وہ بیچارا تو جب تک بقیدحیات رہا اس نام کا بھی قیدی رہا۔لیکن اسی شہرتوں کے ساتھ ایک پرابلم یہ بھی ہے کہ ایسی شہرت یا رسوائی پورے خاندان کو لاحق ہوجاتی ہے جیسے ہمارے ہاں اکثر ایسے خاندان پائے جاتے، میاں گان۔ خانزادگان، اخون زادگان، بابوگان، لوہاران، ترکانان، جلاگان زرگران وغیرہ۔حالانکہ وہ شہرت کسی ایک فرد نے حاصل کی ہوتی ہے۔ہمارے اپنے ایک رشتہ دار کا نام حضرت سید تھا حالانکہ وہ ’’سید‘‘ نہیں تھا۔لیکن صرف ایک لفظ سے وہ پورا خاندان سیدان ہوگیا تھا۔چنانچہ اس ٹیزن کی وفات ذریعہ نجات کے بعد یہ نام اس کے پورے خاندان سے چپک گیا جو بھی ان میں سے کسی کا ذکر کرتا یا حوالہ دیتا کہ اچھا وہ وہ ٹیزن۔کونسا خالد اسلم یا سلیم؟۔وہ ٹیزن۔ایک دو پیڑیاں تو یہ تمغہ امتیاز برداشت کرتی رہیں لیکن تیسری ماڈرن تعلیم یافتہ پیڑھی جس میں اچھی شہرت کے حامل افسر اور لائق فائق نوجوان بھی تھے۔ان سے برداشت نہیں ہوپایا اور ایک دن اپنا سب کچھ بیچ باچھ کر کسی شہر میں گم ہوگئے

خود اپنے سے ملنے کا بھی یارا نہ تھا مجھ میں

میں بھیڑ میں گم ہوگیا تنہائی کے ڈر سے

لیکن بات ختم کہاں ہوئی ہے وہ تو چلے گئے لیکن ان کے گھر،کھیت اور کئی چیزیں اب بھی سزا بھگت رہی ہیں اور اسی نسبت سے موسوم ہیں

یہ نشان عشق ہیں جاتے نہیں

داغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وہ ٹیزن اس ٹیزن

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف