مائیکل جیکسن پر بننے والی فلم ’مائیکل‘ کا پہلا ٹریلر جاری، شائقین پرجوش
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
امریکی موسیقی کے لیجنڈ مائیکل جیکسن کی زندگی پر بننے والی فلم ’مائیکل‘ کا پہلا ٹریلر منظرِ عام پر آتے ہی سوشل میڈیا اور فلمی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔
ٹریلر دیکھنے کے بعد مداحوں نے پرجوش ردِعمل دیتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ بایوپک پاپ کنگ کے کیریئر کو شاندار انداز میں پیش کرے گی، جبکہ فلم 14 اپریل کو سنیما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔
فلم سازوں کے مطابق اس منصوبے میں مائیکل جیکسن کی زندگی کے مختلف ادوار کو یکجا کیا گیا ہے، جن میں ان کا موسیقی کا سفر، شہرت کی بلندیوں تک پہنچنے کی کہانی اور پیشہ ورانہ سطح پر درپیش مشکلات شامل ہیں۔ تاہم اس بایوپک میں ان تنازعات اور الزامات کو مرکزی حصہ نہیں بنایا گیا جو برسوں تک ان کے گرد گھومتے رہے، بلکہ زیادہ توجہ ان کی فنکارانہ جدوجہد اور کیریئر کے نشیب و فراز پر رکھی گئی ہے۔
فلم میں مائیکل جیکسن کا کردار ان کے حقیقی بھتیجے جیفر جیکسن ادا کر رہے ہیں، جو اس کے ذریعے اپنی پہلی بڑی فلم میں جلوہ گر ہوں گے۔ ٹریلر میں انہیں گلوکار کے مخصوص انداز میں چلتے، گفتگو کرتے، گاتے اور مشہورِ زمانہ مون واک کرتے دکھایا گیا ہے۔ ان کی آواز کی نرمی اور رقص کی درستگی نے کئی ناظرین کو متاثر کیا، تاہم کچھ افراد نے یہ رائے بھی دی کہ میک اپ کے ذریعے انہیں مرحوم گلوکار سے مزید مشابہ بنایا جا سکتا تھا۔
ٹریلر کے چند مناظر میں کم عمر مائیکل جیکسن کو ایک پروڈیوسر کی ہدایت پر گاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ مختصر دورانیے کے باوجود اس میں ان کے منفرد ڈانس مووز اور اسٹیج پر چھا جانے والی توانائی کی جھلک بھی شامل کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر ٹریلر نے مداحوں کے تجسس کو بڑھا دیا ہے اور اب سب کی نظریں اپریل میں ہونے والی فلم کی ریلیز پر مرکوز ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مائیکل جیکسن گیا ہے
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔