ایپسٹین فائلز: بل اور ہلیری کلنٹن کانگریس تحقیقات میں گواہی دینے پر آمادہ ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
امریکا کے سابق صدر بل کلنٹن اور سابق وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق امریکی ایوانِ نمائندگان کی تحقیقات میں گواہی دینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایوانِ نمائندگان چند دنوں میں دونوں کے خلاف توہینِ کانگریس کی کارروائی پر ووٹنگ کرنے والا تھا۔ اگر یہ ووٹنگ منظور ہو جاتی تو کلنٹن جوڑے کو جرمانے یا حتیٰ کہ قید کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا تھا۔
یہ پیش رفت بل اور ہلیری کلنٹن اور ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی کے چیئرمین ریپبلکن رکن جیمز کومر کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد سامنے آئی۔ کومر نے کہا ہے کہ دونوں کلنٹن کو کمیٹی کے سامنے حلفیہ بیان کے تحت پیش ہونا ہوگا تاکہ جاری کردہ سمن کی تکمیل ہو سکے۔
مزید پڑھیںایپسٹین فائلز میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے نام بھی سامنے آگئے
کلنٹن کے ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے نیک نیتی سے مذاکرات کیے اور اب وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب جیمز کومر کا کہنا ہے کہ سمن کی شرائط طے کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ گواہی دینے والوں کے پاس۔
واضح رہے کہ بل کلنٹن کا امریکی سرمایہ کار اور جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین سے سماجی تعلق رہا ہے، تاہم بل کلنٹن پر کسی قسم کی غیرقانونی سرگرمی کا الزام عائد نہیں کیا گیا۔
یہ معاملہ ایک بار پھر اس وقت خبروں کی زینت بنا جب امریکی محکمۂ انصاف نے ایپسٹین سے متعلق لاکھوں فائلیں اور ویڈیوز جاری کیں، جس کے بعد امریکی سیاست میں شفافیت اور احتساب کے مطالبات مزید تیز ہو گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔