—فائل فوٹو

وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ فیصلے میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ٹائم لائن دیں گے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ 2022ء میں قانون میں تبدیلی کر کے کوئٹہ کو میٹروپولیٹن سٹی قرار دیا گیا۔

ججز کو جذبات نہیں قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے: وفاقی آئینی عدالت

قانون، ضابطے یا ریگولیشن میں اسپیشل/سپر سپلیمنٹری امتحان کی اجازت موجود نہیں: وفاقی آئینی عدالت کا تحریری فیصلہ

جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیے کہ کوئٹہ 10 کلومیٹر کا شہر ہے، اتنے بڑے آفس کے باوجود الیکشن کمیشن 10کلومیٹر علاقے کی حلقہ بندیاں نہیں کر سکتا، کوئٹہ کی حلقہ بندیاں تو 2 ہفتوں میں بھی ہو سکتی ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ الیکشن کمیشن رضامندی دے تو اپریل میں کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات کرادیں؟ اب 5 سال تو اس مقدمے کو زیرِ التوا نہیں رکھیں گے۔

الیکشن کمیشن کے ڈی جی لاء نے کہا کہ ابھی تو پنجاب اور اسلام آباد میں بھی کام کر رہے ہیں۔

جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا وعدہ بھی الیکشن کمیشن نے وفا نہیں کیا، الیکشن کمیشن تو نہ کرنے والی باتیں کر رہا ہے، اسلام آباد میں الیکشن کروانے کا وعدہ تھا، میں ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ کا جج بنا اور پھر آئینی عدالت کا، لیکن الیکشن نہ ہوئے۔

الیکشن کمیشن کے نمائندے نے کہا کہ حکومت کی جانب سے قانون تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ خدارا ایسے نہ کریں۔

الیکشن کمیشن کے ڈی جی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو صرف کوئٹہ حلقہ بندیوں کے لیے 90 روز درکار ہوں گے۔

ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ مجھے حکومت سے ہدایات لینے کی مہلت دی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: جسٹس عامر فاروق نے بلدیاتی انتخابات الیکشن کمیشن آئینی عدالت حلقہ بندیوں نے کہا کہ

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے