کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ فیصلے میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ٹائم لائن دیں گے۔
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ 2022ء میں قانون میں تبدیلی کر کے کوئٹہ کو میٹروپولیٹن سٹی قرار دیا گیا۔
قانون، ضابطے یا ریگولیشن میں اسپیشل/سپر سپلیمنٹری امتحان کی اجازت موجود نہیں: وفاقی آئینی عدالت کا تحریری فیصلہ
جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیے کہ کوئٹہ 10 کلومیٹر کا شہر ہے، اتنے بڑے آفس کے باوجود الیکشن کمیشن 10کلومیٹر علاقے کی حلقہ بندیاں نہیں کر سکتا، کوئٹہ کی حلقہ بندیاں تو 2 ہفتوں میں بھی ہو سکتی ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ الیکشن کمیشن رضامندی دے تو اپریل میں کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات کرادیں؟ اب 5 سال تو اس مقدمے کو زیرِ التوا نہیں رکھیں گے۔
الیکشن کمیشن کے ڈی جی لاء نے کہا کہ ابھی تو پنجاب اور اسلام آباد میں بھی کام کر رہے ہیں۔
جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا وعدہ بھی الیکشن کمیشن نے وفا نہیں کیا، الیکشن کمیشن تو نہ کرنے والی باتیں کر رہا ہے، اسلام آباد میں الیکشن کروانے کا وعدہ تھا، میں ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ کا جج بنا اور پھر آئینی عدالت کا، لیکن الیکشن نہ ہوئے۔
الیکشن کمیشن کے نمائندے نے کہا کہ حکومت کی جانب سے قانون تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ خدارا ایسے نہ کریں۔
الیکشن کمیشن کے ڈی جی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو صرف کوئٹہ حلقہ بندیوں کے لیے 90 روز درکار ہوں گے۔
ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ مجھے حکومت سے ہدایات لینے کی مہلت دی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جسٹس عامر فاروق نے بلدیاتی انتخابات الیکشن کمیشن آئینی عدالت حلقہ بندیوں نے کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔