خاتون شوہر کے غائب ہوجانے کے 2 برس بعد تنسیخ نکاح کیلئے عدالت جاسکتی ہے: اسلامی نظریاتی کونسل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل نے واضح کیا ہے کہ اگر شوہر لاپتہ ہو جائے تو خاتون دو سال گزرنے کے بعد نکاح کے فسخ کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے نکاح کے فسخ سے متعلق موجودہ قوانین کا جائزہ لیا اور صنفی عدم مساوات سے متعلق خصوصی کمیٹی کی تجاویز سے اصولی اتفاق کیا۔ کونسل کے مطابق شوہر کے لاپتہ ہونے کی صورت میں دو سال اور قید کی صورت میں تین سال مکمل ہونے پر خاتون عدالت سے نکاح منسوخ کرانے کی درخواست دے سکتی ہے۔
کونسل کا کہنا ہے کہ اگر شوہر حقِ زوجیت ادا کرنے کے قابل نہ ہو یا ذہنی امراض، کینسر سمیت کسی سنگین بیماری میں مبتلا ہو تو ایسی صورت میں خاتون ایک سال تک انتظار کے بعد فسخِ نکاح کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔