یوٹیوبر رجب بٹ اور ندیم نانی والا نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
پاکستان کے معروف اور متنازع یوٹیوبر رجب بٹ اور ٹک ٹاکر ندیم نانی والا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔
رجب بٹ اور ندیم نانی والا سائبر کرائم سمیت مختلف مقدمات میں نامزد ہیں اور ان پر بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد ہے۔ دونوں سوشل میڈیا شخصیات نے عدالت میں الگ الگ درخواستیں دائر کی ہیں جن میں بیرونِ ملک سفر پر عائد رکاوٹ ختم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ درخواستیں بیرسٹر راجہ قدیر جنجوعہ اور احد کھوکھر کے توسط سے جمع کرائی گئی ہیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ انہیں بلا جواز سفری پابندی کی فہرست میں شامل کیا گیا، جس کے باعث ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
درخواستوں میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، سیکریٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے، جبکہ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فوری طور پر ان کے نام سفری پابندی کی فہرست سے خارج کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان درخواستوں پر سماعت متوقع ہے، جس کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ عدالت اس معاملے میں کیا فیصلہ کرتی ہے اور آیا دونوں سوشل میڈیا اسٹارز کو بیرونِ ملک سفر کی اجازت مل پائے گی یا نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔