اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا زور برقرار، انڈیکس میں 1900 پوائنٹس سے زائد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز بھی خریداری کا زور برقرار رہا اور کاروبار کے نصف دن پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1900 سے زائد پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ میں آٹوموبائل، سیمنٹ، کیمیکل، بینکنگ، فرٹیلائزر، فارماسیوٹیکل، ٹیکنالوجی اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے شعبوں میں بھرپور خریداری دیکھنے میں آئی، جس کے باعث مجموعی رجحان خاصا مثبت رہا۔
یہ بھی پڑھیں: یو بی ایل سب سے بڑی لسٹڈ کمپنی بن گئی، اسٹاک ایکسچینج 186000 پوائنٹس کی نئی بلندی پر
دوپہر 12 بجے کے ایس ای 100 انڈیکس 186,978.
واضح رہے کہ پیر کے روز اسٹاک مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ رہا تھا، تاہم دن کے اختتام پر انڈیکس 883 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 185,057 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
Market is up at midday ????
⏳ KSE 100 is positive by +1920.61 points (+1.04%) at midday trading. Index is at 186,978.44 and volume so far is 179.27 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/Lt5xPND1v9
— Investify Pakistan (@investifypk) February 3, 2026
دلچسپ امر یہ ہے کہ مارکیٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارت کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے پر کوئی منفی ردِعمل ظاہر نہیں کیا، حالانکہ اس معاہدے کے تحت بھارتی مصنوعات پر امریکی ٹیرف 50 فیصد سے کم ہو کر 18 فیصد کر دیا گیا ہے، جو پاکستان پر عائد 19 فیصد ٹیرف سے ایک فیصد کم ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی منگل کو مالیاتی منڈیوں میں بہتری دیکھی گئی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس اور قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں تیزی آئی، جو گزشتہ روز کی شدید مندی کے بعد بحالی کی علامت ہے۔
مزید پڑھیں: معاشی اشاریے مضبوط، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تاریخ کی نئی بلندی چھو لی
جاپان کا نکی انڈیکس 2.5 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 4 فیصد بڑھ گیا۔
اسی طرح سونے کی قیمت ایشیائی کاروبار کے دوران 3 فیصد اضافے کے ساتھ 4,800 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جو پیر کی کم ترین سطح سے تقریباً 9 فیصد زیادہ ہے، جبکہ چاندی کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈیوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کی ایک بڑی وجہ امریکی صدر کی جانب سے کیون وارش کو فیڈرل ریزرو کی قیادت کے لیے نامزد کرنا ہے، جس سے بانڈ ییلڈز میں اضافے اور قیمتی دھاتوں پر دباؤ کے خدشات پیدا ہوئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹوموبائل اسٹاک ایکسچینج اسٹاک مارکیٹ انڈیکس بینکنگ پاکستان جاپان جنوبی کوریا سیمنٹ فارماسیوٹیکل فیڈرل ریزرو کے ایس ای مندی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آٹوموبائل اسٹاک ایکسچینج اسٹاک مارکیٹ انڈیکس پاکستان جاپان جنوبی کوریا فارماسیوٹیکل فیڈرل ریزرو کے ایس ای اسٹاک ایکسچینج
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر