بنگلہ دیش نے ریپڈ ایکشن بٹالین کا نام اور وردی کیوں تبدیل کی جارہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
بنگلہ دیش نے انسانی حقوق سے متعلق سنگین الزامات کے تناظر میں اپنی ایلیٹ قانون نافذ کرنے والی فورس ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) کا نام تبدیل کر کے اسپیشل انٹروینشن فورس (SIF) رکھ دیا ہے۔
یہ فیصلہ فورس کی ساکھ بحال کرنے اور اس کے عملی ڈھانچے کو ازسرِ نو ترتیب دینے کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ اعلان منگل کے روز وزارت داخلہ میں لا اینڈ آرڈر کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔ بنگلہ دیش کے مشیر برائے امورِ داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) جہانگیر عالم چوہدری نے بتایا کہ فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہو گا اور اس حوالے سے باضابطہ سرکاری نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جائے گا۔
مشیر داخلہ کے مطابق، یہ تجویز ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے دی تھی جس کی سربراہی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالحفیظ کر رہے تھے، جو دفاع اور قومی یکجہتی سے متعلق چیف ایڈوائزر کے خصوصی معاون ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چیف ایڈوائزر نے سفارش کی منظوری دے دی ہے اور اب فورس نئے نام اور نئے عملی فریم ورک کے تحت کام کرے گی۔
وردی میں تبدیلی، امیج ری سیٹ کی کوششحکام کے مطابق فورس کی وردی پہلے ہی تبدیل کی جا چکی ہے اور اہلکار جلد نئی وردی میں عوام کے سامنے نظر آئیں گے۔
وزارت داخلہ کے سینئر سیکرٹری نسیم الحق غنی نے تسلیم کیا کہ ریپڈ ایکشن بٹالین کا سابقہ نام عوام میں منفی تاثر اختیار کر چکا تھا، جس کے باعث ری برانڈنگ ضروری سمجھی گئی۔
ریپڈ ایکشن بٹالین کا قیام 2004 میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کے دورِ حکومت میں عمل میں آیا تھا۔ اس وقت فورس ملک بھر میں 15 بٹالینز کے ذریعے کام کر رہی تھی، تاہم برسوں کے دوران اس پر ماورائے عدالت ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات لگتے رہے۔
امریکی پابندیاں اور اقوام متحدہ کی رپورٹدسمبر 2021 میں امریکا نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں ریپڈ ایکشن بٹالین اور اس کے کئی سینئر افسران پر پابندیاں عائد کیں، جن کا اعلان امریکی محکمہ خزانہ اور محکمہ خارجہ نے کیا تھا۔ پابندیوں کی زد میں ایک سابق ڈائریکٹر جنرل بھی شامل تھا۔
بعد ازاں، جولائی اور اگست 2024 کے واقعات پر اقوام متحدہ کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں فورس کو مکمل طور پر تحلیل کرنے کی سفارش کی گئی۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت دیگر عالمی اداروں نے بھی ایسے ہی مطالبات کیے۔
بنگلہ دیش پولیس ریفارم کمیشن نے ریپڈ ایکشن بٹالین کی ضرورت پر نظرثانی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ فورس کے ماضی کے طرزِ عمل اور الزامات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جانا چاہیے، اور عوام دوست پولیسنگ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
دوسری جانب، اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) نے فورس کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ ادارے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔
اصل تبدیلی یا محض علامتی قدم؟اب یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا ریپڈ ایکشن بٹالین کا نام تبدیل کر کے اسپیشل انٹروینشن فورس رکھنا واقعی عملی اور ادارہ جاتی اصلاحات کا باعث بنے گا، یا یہ محض ایک علامتی اقدام ثابت ہو گا۔
بنگلہ دیش کو اس وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی سطح پر سخت نگرانی کا سامنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش ریپڈ ایکشن بٹالین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیش
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔