سندھ بلڈنگ، اللہ والا ٹاؤن کی رہائشی پلاٹ اسکیم تباہ، قوانین پامال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
مشترکہ پلاٹوں پر کمرشل پلازوں کی غیر قانونی تعمیرات ،قابض انسپکٹر کاشف مافیا کا سرپرست
پلاٹ نمبر 1274+1299 پر جاری غیر قانونی تعمیرات ، ہائی کورٹ کے احکامات نظرا نداز
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ضلع کورنگی کے بلڈنگ انسپکٹر کاشف علی کے خلاف تعمیراتی مافیا کے ساتھ ملی بھگت کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، کاشف علی عرصہ دراز سے اس علاقے میں قابض ہے اور اس عرصے میں اس نے سینکڑوں غیر قانونی تعمیرات پر خاموشی اختیار کی ہے ۔ اللہ والا ٹاؤن کی مشترکہ رہائشی اسکیم میں واقع سیکٹر 31G پلاٹ نمبر 1274+1299 دو مشترکہ رہائشی پلاٹوں پر دکانیں اور تجارتی مقاصد کے لئے غیر قانونی کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیر جاری ہے ۔مقامی رہائشی عبدالقدوس کا کہنا ہے کہ "ہماری بار بار کی شکایات کے باوجود بلڈنگ انسپکٹر کاشف کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی، بلکہ وہ تو اس علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کے لیے ایک ‘قابض’افسر کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ تعمیراتی ٹھیکے دار نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ سب کو خرید لیا گیا ہے "۔ایک اور رہائشی عظمیٰ کا کہنا ہے کہ اس غیر قانونی تعمیر نے پورے علاقے میں بنیادی سہولیات کو بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ جرأت سروے ٹیم کی جانب سے موقف لینے کے لئے ایس بی سی اے ترجمان سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ "اگر ثبوت کے ساتھ کسی اہلکار کے خلاف الزامات ہیں تو تحقیقات کر کے مناسب کارروائی کی جائے گی”۔رہائشیوں کے پاس تحریری شکایات، تصاویر اور مبینہ طور پر رشوت کی گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگز موجود ہیں۔یہ واقعات اس وقت سامنے آئے ہیں جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے رہائشی اسکیموں میں بغیر منظوری کے کمرشل تعمیرات پر واضح پابندی عائد کی ہوئی ہے ۔ متاثرہ شہریوں نے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ سے پرزور اپیل کی ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے قابض افسران اور تعمیراتی ٹھیکیداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: غیر قانونی تعمیرات
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔