او جی ڈی سی ایل غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں سابق وزیر انور سیف اللہ کی نظرثانی درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
سپریم کورٹ نے او جی ڈی سی ایل میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس میں سابق وزیر انور سیف اللہ کی نظرثانی درخواست منظور نہ کرتے ہوئے مسترد کر دی۔
اس کیس میں عدالت نے وضاحت کی کہ بھرتیوں کا طریقہ کار اشتہار جاری کرنے کے بعد امیدواروں کو خط جاری کرنا ہے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ او جی ڈی سی ایل میں گریڈ 4 اور 5 کے لیے 145 افراد کو بھرتی کے خطوط جاری کیے گئے تھے۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق، سابق وزیر انور سیف اللہ کی موجودگی میں تین افراد نے جوائننگ کی جبکہ 24 ملازمین نے بعد میں جوائننگ کی۔ عدالت نے کہا کہ اس وقت کے چیئرمین کو نامزد نہ کرنا بدنیتی کا مظہر تھا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ سابق وزیر کی جانب سے چیئرمین او جی ڈی سی ایل پر دباؤ ڈالا گیا جبکہ چیئرمین کو مزاحمت کرنی چاہیے تھی۔ جسٹس صلاح الدین پنور نے کہا کہ وزراء سے عوام نوکریاں مانگتے ہیں لیکن قانون کا طریقہ کار واضح ہونا چاہیے۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے موقف اختیار کیا کہ بھرتیوں میں طریقہ کار کو نظرانداز کیا گیا اور نوازا گیا۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا سزا ہونے کے بعد سلسلہ رک گیا یا نہیں، اور کہا کہ اگر قانون پر عمل نہ کیا گیا تو لوگ یہ سوچیں گے کہ کچھ نہیں ہوتا۔
ابتدائی طور پر ٹرائل کورٹ نے سابق وزیر انور سیف اللہ کو 1 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی، جسے ہائی کورٹ نے بعد میں بری کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی، جہاں 3رکنی بینچ نے جرمانے کو ختم کرتے ہوئے قید کی سزا بحال کر دی تھی۔ بعد ازاں سابق وزیر کی جانب سے نظرثانی درخواست دائر کی گئی تھی، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔
سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس ہاشم کاکڑ نے کی، جس میں سماعت مکمل کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سابق وزیر انور سیف اللہ او جی ڈی سی ایل عدالت نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔