اسلام آباد:

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ پمز ایک بہترین اسپتال ہے اور بانی پی ٹی آئی نے خود خواہش کا اظہار کیا کہ مجھے پمز اسپتال میں لے جائیں اور علاج وہی سے کروایا جائے۔

سینیٹ اجلاس میں عمران خان کی صحت سے متعلق سوالات پر جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان نے خود کہا اگر امن وامان کی صودتحال کا مسئلہ تو مجھے شام کو لے جائیں۔ پمز کے ای ڈی نے یہ باتیں ایک پریس کانفرنس میں کی ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر دوبارہ بھی کوئی مسئلہ آیا تو انہیں یہ سہولیات دی جائیں گی، بانی پی ٹی آئی کو ایک مسئلہ سامنے آیا جس پر انہوں نے خود کہا مجھے یہ انجکشن پمز سے لگوایا جائے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بلاشبہ آئین پاکستان ہر شخص کو حقوق دیتا ہے، حقوق کا اطلاق بھی آئینی طریقہ ہے، سابق وزیراعظم کو ایک پروسیجر اپنا کر عدالت نے سزا دی ہے، ان کے خلاف ساڑھے چار کروڑ کے ہیروں کے ہار کو بہت کم قیمت میں بیچنے کا کیس ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سزا یافتہ مجرم کی ذمہ داری اپیلٹ کورٹ کو ہوتی ہے، قیدی کو سہولیات نا ملنے کا معاملہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ سے پوچھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کو جب گرفتار کیا گیا تو انہیں کچھ دن پہلے آنکھ کا فالج ہوا تھا، میں نے مجسٹریٹ کو بھی کہا لیکن مجسٹریٹ صاحب نے آئیں بائیں شائیں کی، رانا ثناء اللہ کو باون ڈگری کے ٹمپریچر میں زمین پر سلایا جاتا تھا وار جیل ڈاکٹر سے بھی نہیں ملنے دیا جاتا تھا، رانا ثناء اللہ پر منشیات کا کیس ڈالا گیا تھا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرے وزیراعظم نے تو کبھی نہیں کہا انہیں طبی سہولیات نا دی جائیں، میرے وزیراعظم نے سیکرٹری ہیلتھ کو کہا کہ وہ ای ڈی پمز کے ساتھ پریس کانفرنس کریں، میرے وزیراعظم انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے قیدی کی ہدایت پر پمز اسپتال سے علاج کروایا اور ان کا پروسیجر کامیاب ہوا ہے، انہیں مزید کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

اس سے قبل، اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے بات کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت پر بات کرنا چاہتا ہوں۔

مزید پڑھیں

عمران خان کو کسی چھوٹے نہیں بلکہ بڑے مسئلے کی وجہ سے پمز اسپتال لایا گیا، بابر اعوان

پریزائیڈنگ افسر نے کہا کہ قانون کے مطابق آپ وفقہ سوالات کے دوران بات نہیں کر سکتے، اگر ہم قوانین پر عمل نہیں کریں گے تو ہمارے اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔

اپوزیشن لیڈر

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس ملک کے مقبول لیڈر ہیں، 14 مہینوں سے ان کے ذاتی معالج سے چیک اَپ نہیں کروایا گیا، معالج سے چیک کروانا اور خاندان کو ان کی صحت سے مطلع رکھنا آئینی ذمہ داری ہے اور یہ ان کا بنیادی حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کو ڈپریشن سے نکالنے کی ضرورت ہے، قیدی کا حق ہے کہ اسے ملاقات کروائی جائے، سیاستدان سیاسی بیان نہیں دے گا تو اور کیا کرے گا، ان کی اہلیہ سے کیوں ملاقات نہیں کروائی جاتی، وہ کون سا سیاسی بیان دیتی ہیں، ہم نہیں کہتے انہیں ملک سے باہر بھیجا جائے۔

علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ حکومتی اور اپوزیشن سینیٹرز پر مشتمل کمیٹی بنائیں وہ جاکر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کریں، ان کے خاندان اور ان کے معالج کی ملاقات کروائی جائے، ظالم پر بھی ظلم نہیں ہونا چاہیے، 2018 میں دھاندلی ہوئی تھی؟ مجھے علم نہیں، اگر 2018 میں دھاندلی ہوئی تو 2024 میں بھی دھاندلی ہوئی یہ کہنا اعتراف جرم ہے۔

سینیٹر علی ظفر

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے، بانی پی ٹی آئی کا ایک پروسیجر ہوا جس کا ایک وزیر نے ہی بتایا ہے، ہم نے کہا ہمارے ڈاکٹرز کی ملاقات کروائی جائے لیکن بانی پی ٹی آئی کے ڈاکٹرز کی ملاقات نہیں کروائی گئی، ان کے ڈاکٹرز نے کہا یہ بڑا سنجیدہ معاملہ ہو سکتا ہے جس سے آنکھ مستقل بند ہو سکتی ہے، بنیادی انسانی حقوق کے ناطے اپیل کرتا ہوں ان کے ڈاکٹرز کو ملنے دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف صاحب جب جیل میں تھے تو پلیٹلیٹس کا معاملہ اٹھا، بانی پی ٹی آئی نے اس وقت کہا جب انسانی حقوق کا معاملہ آئے تو سیاست کو ایک طرف رکھا جائے، اس وقت نواز شریف ملک سے باہر بھی گئے اور انہیں یہاں بھی ڈاکٹروں تک رسائی دی گئی۔

سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ کم ازکم ان کے معالجین کو آج ہی ملاقات کروائیں، چیئرمین سینیٹ پمز اسپتال سے رپورٹ طلب کرکے ہمارے سامنے رکھیں، ڈاکٹرز کے ساتھ ہمارے دو سینیٹرز کی بھی ملاقات کروائی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ملاقات کروائی جائے انہوں نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ بانی پی ٹی آئی پمز اسپتال وفاقی وزیر کا معاملہ کی صحت

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق