وزیر اعلیٰ بلوچستان نے انسدادِ پولیو مہم کا باضابطہ افتتاح کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں انسدادِ پولیو مہم کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ مہم کے دوران بلوچستان بھر میں 26 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ انسدادِ پولیو مہم میں مجموعی طور پر 11 ہزار ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جن میں 822 فکسڈ اور 474 ٹرانزٹ ٹیمیں بھی شامل ہیں جو مختلف مقامات پر خدمات انجام دیں گی تاکہ کوئی بچہ پولیو کے قطروں سے محروم نہ رہ جائے۔
گزشتہ 15 ماہ میں بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیںمیر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ ایک حوصلہ افزا امر ہے کہ گزشتہ 15 مہینوں کے دوران بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کے 23 اضلاع میں سے صرف 2 علاقوں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مطابق سال 2025 میں صوبے میں پولیو وائرس کے خاتمے کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی سطح پر پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے موجودہ سال انتہائی اہم ہے۔
93 فیصد علاقوں سے پولیو وائرس کا خاتمہمیر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے 93 فیصد علاقوں کے ماحولیات سے پولیو وائرس کا خاتمہ ہو چکا ہے جبکہ باقی 7 فیصد علاقوں سے وائرس کے خاتمے کے لیے منظم اور مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سال رفتہ کی طرح 2026 میں بھی منظم اور مؤثر مہم کے ذریعے ہر بچے تک رسائی یقینی بنائی جائے گی تاکہ پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ننھے بچے کسی بھی وقت پولیو وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے انسدادِ پولیو مہم بیماری کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ پولیو ایک لاعلاج معذوری کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے بچوں کو لازمی پولیو کے قطرے پلوائیں۔
ایک بچے کی محرومی سب کے لیے خطرہوزیر اعلیٰ بلوچستان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک بچہ بھی پولیو کے قطروں سے محروم رہ گیا تو تمام بچے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ بچوں کی صحت کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسداد پولیو مہم وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسداد پولیو مہم وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی میر سرفراز بگٹی نے پولیو وائرس میں پولیو پولیو مہم وزیر اعلی نے کہا کہ پولیو کے کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔