بلوچستان کا مسئلہ بات چیت سے حل کیا جائے: عالیہ کامران
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
عالیہ کامران---فائل فوٹو
رکنِ اسمبلی عالیہ کامران نے بلوچستان کے مسئلے کو بات چیت سے حل کرنے کا مشورہ دے دیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بتایا گیا کہ 177 دہشت گرد مارے گئے، یہ بھی بتایا جائے کہ کیا 12 یا 14 اضلاع ان کے کنٹرول میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خدا کے لیے بلوچستان کے بچوں کو بچائیں، بات چیت سے مسائل حل کیجیے۔
صوفیہ سعید کی پاکستان میں حملوں کی مذمترکنِ اسمبلی ایم کیو ایم صوفیہ سعید نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے تمام حملوں کی مذمت کرتی ہوں، سوال کیا گیا کہ ہمارے ادارے دیر سے کیوں پہنچتے ہیں؟ کیا یہ دیکھ بھال ہماری ذمے داری نہیں، اس کے لیے مؤثر بلدیاتی اداروں کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔