کرکٹ ڈپلومیسی دفن، میدان میں یا باہر، بھارت کیلیے رعایت نہیں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
اسلام آباد:
فروری 1987 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید ترین فوجی تنائو کے دوران صدر جنرل ضیا ء الحق 21فروری کو ٹیسٹ میچ دیکھنے کے لیے بھارت چلے گئے۔
انھوں نے بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو ایک انتہائی سنگین پیغام پہنچایا کہ کسی بھی فوجی مہم جوئی کی صورت میں حالات بگڑ سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر ایٹمی تصادم کی نوبت آ سکتی ہے۔
یہ دورہ کام کر گیا اور بھارت کی فوجوں نے سرحدوں سے واپسی کی۔ 1999 کے کارگل تنازع کے بعد بھارتی انتہا پسندوں کی شدید مخالفت کے باوجود پاکستان اور بھارت نے دو طرفہ کرکٹ بحال کی۔
2004 اور 2007 کے درمیان جب دونوں ملکوں نے کرکٹ کے باہمی دوروں کو اعتماد سازی کے لیے استعمال کیا۔
2011 میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے پاکستانی ہم منصب یوسف گیلانی کو ورلڈ کپ سیمی فائنل دیکھنے کے لیے موہالی مدعو کیا۔
اب 2026 میں آتے ہیں تو 15 فروری کو کولمبو میں بھارت کے خلاف ہائی وولٹیج ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ نہ کھیلنے کے پاکستان کے فیصلے نے دو طرفہ تعلقات کے انتہائی کم تر سطح پر پہنچ جانے کا بتا دیا ہے۔
مزید پڑھیںپاکستان کا بھارت کے خلاف کھیلنے سے انکار، آئی سی سی کا ردِعمل آگیا
کئی دہائیوں تک کرکٹ نے ایک سفارتی ’’ سیفٹی والو ‘‘ کے طور پر کام کیا۔ باضابطہ مذاکرات منجمد ہونے کی صورت میں کرکٹ ہی رابطے کا ایک نادر ذریعہ تھا۔
تاہم اب کرکٹ کی یہ کھڑکی بھی مکمل طور پر بند ہوگئی ہے۔ کرکٹ ڈپلومیسی کو دفن کردیا گیا ہے۔
میدان کے اندر ہو یا باہر، پاکستان کی جانب سے بھارت کو مزید کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ حکام نے کہا کہ اس فیصلے کی فوری وجہ آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے نکالنے کا وہ فیصلہ تھا جسے وسیع پیمانے پر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے زیرِ اثر دیکھا گیا۔
تاہم پاکستان سمجھتا ہے کہ 2014 میں مودی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے اسے کھیلوں سمیت ہر سطح پر تنہا کرنے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے۔
بھارت میں پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے کرکٹ ڈپلومیسی کے ختم ہونے کی بنیادی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے جو بامعنی مذاکرات، خاص طور پر جموں و کشمیر کے تنازع پر بات چیت سے انکار کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔