اسلام آباد:

فروری 1987 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید ترین فوجی تنائو کے دوران صدر جنرل ضیا ء الحق 21فروری کو ٹیسٹ میچ دیکھنے کے لیے بھارت چلے گئے۔

انھوں نے بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو ایک انتہائی سنگین پیغام پہنچایا کہ کسی بھی فوجی مہم جوئی کی صورت میں حالات بگڑ سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر ایٹمی تصادم کی نوبت آ سکتی ہے۔

یہ دورہ کام کر گیا اور بھارت کی فوجوں نے سرحدوں سے واپسی کی۔ 1999 کے کارگل تنازع کے بعد بھارتی انتہا پسندوں کی شدید مخالفت کے باوجود پاکستان اور بھارت نے دو طرفہ کرکٹ بحال کی۔

2004 اور 2007 کے درمیان جب دونوں ملکوں نے کرکٹ کے باہمی دوروں کو اعتماد سازی کے لیے استعمال کیا۔

2011 میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے پاکستانی ہم منصب یوسف گیلانی کو ورلڈ کپ سیمی فائنل دیکھنے کے لیے موہالی مدعو کیا۔

اب 2026 میں آتے ہیں تو 15 فروری کو کولمبو میں بھارت کے خلاف ہائی وولٹیج ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ نہ کھیلنے کے پاکستان کے فیصلے نے دو طرفہ تعلقات کے انتہائی کم تر سطح  پر پہنچ جانے کا بتا دیا ہے۔

مزید پڑھیں

پاکستان کا بھارت کے خلاف کھیلنے سے انکار، آئی سی سی کا ردِعمل آگیا

کئی دہائیوں تک کرکٹ نے ایک سفارتی ’’ سیفٹی والو ‘‘ کے طور پر کام کیا۔ باضابطہ مذاکرات منجمد ہونے کی صورت میں کرکٹ ہی رابطے کا ایک نادر ذریعہ تھا۔

تاہم اب کرکٹ کی یہ کھڑکی بھی مکمل طور پر بند ہوگئی ہے۔ کرکٹ ڈپلومیسی کو دفن کردیا گیا ہے۔

میدان کے اندر ہو یا باہر، پاکستان کی جانب سے بھارت کو مزید کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ حکام نے کہا کہ اس فیصلے کی فوری وجہ آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے نکالنے کا وہ فیصلہ تھا جسے وسیع پیمانے پر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے زیرِ اثر دیکھا گیا۔

تاہم پاکستان سمجھتا ہے کہ 2014 میں مودی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے اسے کھیلوں سمیت ہر سطح پر تنہا کرنے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے۔ 

بھارت میں پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے کرکٹ ڈپلومیسی کے ختم ہونے کی بنیادی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے جو بامعنی مذاکرات، خاص طور پر جموں و کشمیر کے تنازع پر بات چیت سے انکار کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی