سینئر اداکار مالی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے آبدیدہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
پاکستان شوبز انڈسٹری سے وابستہ سینئر اداکار عمران قریشی اپنے مالی مشکلات کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔حال ہی میں اداکار نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں شرکت کی جہاں انہوں نے اپنی زندگی کی تلخیوں پر گفتگو کی۔میزبان کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آپ کو زندگی میں کسی چیز پر افسوس ہے؟ جس پر اداکار نے اپنے مالی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ 'میں بہت امیر گھر میں پیدا ہوا، کبھی غریبی دیکھی نہیں، میری والدہ نے ملکہ والی زندگی گزاری لیکن 20 سال پہلے وقت نے کروٹ لی اور معاشی طور پر حالات بہت برے ہوگئے، مجھے یہی افسوس تھا کہ میں اپنی والدہ کو سہولتیں دے سکوں۔'انہوں نے کہا کہ 'ایسا بھی ہوتا تھا کہ ہم سوچتے تھے کہ کھانے کا انتظام کیسے کیا جائے، اب حالات بہتر ہوگئے ہیں لیکن دکھ ہے کہ اب والدہ نہیں ہیں۔'سینئر اداکار نے اپنی ہی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 'مالی حالات یہ ہوگئے تھے کہ میں جس دکان کا مالک تھا اسی دکان میں نوکری کرنے پر مجبور ہوگیا تھا، ایک کپڑے کی دکان میں بھی کام کیا جہاں مجھ سے شیشے بھی صاف کروائے گئے اور کھانے کے برتن بھی دھلوائے گئے جس پر میں بہت رویا۔'
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔