ڈپٹی چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) سہیل ناصر نے کہا ہے کہ نیب میں آنے والے ہر شخص کی عزت و وقار کو ملحوظ خاطر رکھا گیا اور اس پالیسی پر عملی طور پر عمل درآمد کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چاہے کوئی شخص ملزم ہی کیوں نہ ہو، اس کی عزت مجروح نہیں ہونی چاہیے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل ناصر کا کہنا تھا کہ نیب نے تنقید کو برداشت کیا اور اسے منفی کے بجائے مثبت انداز میں لیا۔ ‘ہم چاہتے تھے کہ سب کو ساتھ لے کر چلیں، اسی سوچ کے تحت کام کیا گیا’۔

یہ بھی پڑھیے: کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل: نیب نے پلی بارگین کے تحت ساڑھے 4 ارب روپے ریکور کرلیے

انہوں نے کہا کہ نیب نے لوگوں کے ساتھ ہونے والے فراڈ کے مقدمات کو حل کیا اور لوٹی گئی رقوم اصل حقداروں تک پہنچائی گئیں، جس سے عوام کا نیب پر اعتماد بحال ہوا۔ ان کے مطابق بیوروکریسی اور بزنس کمیونٹی کو اعتماد دیا گیا کیونکہ عدم اعتمادی کی فضا کے باعث بیوروکریسی نے مؤثر انداز میں کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔

سہیل ناصر کا کہنا تھا کہ ‘تنقید کو ہم برا نہیں سمجھتے بلکہ اس سے سیکھتے ہیں’۔ انہوں نے وضاحت کی کہ نیب قوانین میں بعض ایسی شقیں شامل ہیں جو عام قوانین میں موجود نہیں ہیں، تاہم نیب میں ملزم، مدعی یا گواہ، سب کی عزت و تکریم کو یقینی بنایا گیا۔

اس موقع پر ڈی جی آپریشن نیب امجد مجید اولک نے نیب کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2022-23 میں پارلیمنٹ کے ذریعے نیب قوانین میں اہم ترامیم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے خود احتسابی کے اصول پر عمل کرتے ہوئے کام کیا اور سول سوسائٹی کو آگاہی فراہم کرنا بھی نیب کے قانونی دائرہ کار میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 2025 میں 6 کھرب روپے سے زیادہ کی ریکوری کی، چیئرمین نیب نے سالانہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی

ڈی جی آپریشن نیب کے مطابق جہاں کرپشن ثابت ہوتی ہے وہاں نیب کیس دائر کر کے گرفتاریاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2023 کے بعد ایک جدید کمپلینٹ سیل قائم کیا گیا ہے، جس کی نگرانی نیب ہیڈکوارٹر براہ راست کرتا ہے۔

امجد مجید اولک نے کہا کہ نیب کو کمپلینٹ فراہم کرنے والا شخص تمام متعلقہ دستاویزات جمع کرواتا ہے، اور جب تک مکمل تسلی نہ ہو جائے اور شکایت انکوائری میں تبدیل نہ ہو، اسے خفیہ رکھا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احتساب بدعنوانی ریکوری کرپشن نیب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بدعنوانی ریکوری سہیل ناصر انہوں نے نے کہا کہ نیب کی عزت

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا