ارفع کریم کے والد بیٹی کی 31 ویں سالگرہ پر جذباتی ہو گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
اسلام آباد(آئی این پی ) دنیا کی کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ارفع کریم رندھاوا کی 31 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے والد امجد کریم رندھاوا اپنی بیٹی کو یاد کر کے جذباتی ہو گئے۔انہوں نے سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پر اپنی پوسٹ میں بیٹی کی زندگی کے یادگار لمحات کی کچھ تصاویر شیئر کیں۔ارفع کریم کے والد نے بیٹی کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ میری پیاری ارفع، آج تم31 برس کی ہوتیں، یہ جملہ لکھتے ہوئے ہاتھ نہیں کانپتا بلکہ دل کانپ جاتا ہے کیونکہ باپ کیلئے برس گننا آسان ہوتا ہے، خالی پن گننا نہیں۔انہوں نے لکھا کہ تمہاری جدائی کے بعد زندگی سیدھی لکیر نہیں رہی بلکہ ہر دن ایک نیا سوال تھا، کبھی خود سے، کبھی تقدیر سے اور اکثر خاموش آسمان سے، بہت کچھ سہنا پڑا، وہ دکھ بھی جو لفظوں میں نہیں سموتے، وہ فیصلے بھی جو تنہائی میں کرنے پڑے اور وہ ذمے داریاں بھی جو آنسو پونچھ کر اٹھانی پڑیں۔ ارفع کریم کے والد نے لکھا کہ مگر میں نے ہارنا نہیں سیکھا، تم ہمارے لیے آزمائش نہیں تھیں بلکہ اس بات کی طرف اشارہ تھیں کہ علم عبادت ہے، سادگی طاقت ہے اور خلوص سب سے بڑی ذہانت ہے۔انہوں نے لکھا کہ تمہاری کمی نے ہمیں توڑا ضرور مگر بکھرنے نہیں دیا اور اسی درد کی وجہ سے ارفع کریم فانڈیشن نے جنم لیا اور یہ کوئی ادارہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے کہ جو چراغ تم نے جلایا تھا وہ بجھنے نہیں دیا جائے گا، ان شا اللہ۔ارفع کریم کے والد نے لکھا ہے کہ اگرچہ زندگی نے بہت امتحان لیے مگر میرا پندار سلامت ہے، اس لیے نہیں کہ میں مضبوط ہوں بلکہ اس لیے کہ تم سچی تھیں۔انہوں نے قرآن پاک کی سور الرعد کی آیت نمبر 17 کا حوالہ دیا ہے جس کا ترجمہ ہے کہ اور جو چیز لوگوں کیلئے نفع بخش ہوتی ہے، وہی زمین پر باقی رہتی ہے۔ارفع کریم کے والد نے بیٹی کے لیے دعا کرتے ہوئے لکھا کہ سکون سے رہو، میری بچی! تمہارا نام اب ایک ذمے داری ہے، تمہاری زندگی ایک سمت ہے اور تمہاری یاد ایک امانت ہے جسے ہم ثابت قدمی سے نبھا رہے ہیں۔انہوں نے مزید لکھا کہ اے اللہ! میری ارفع کو اپنی رحمت کے اس حصے میں جگہ دے جہاں نہ وقت کی گرفت ہو، نہ حساب کی سختی، اس کے مختصر مگر بامعنی سفر کو قبول فرما اور اس کے نام سے جڑی ہر نیکی کو اس کے لیے صدق جاریہ بنا دے۔ارفع کریم کے والد نے پوسٹ کے آخر میں لکھا ہے کہ اے ربِ کریم! مجھے یہ حوصلہ عطا فرما کہ میں دکھ میں بھی شکوہ نہ کروں، امتحان میں بھی کمزور نہ پڑوں اور اس امانت کا حق ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھے ایک باپ ہونے کی صورت میں سونپی، آمین۔
ایرانی صدر نے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی اجازت دے دی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔