’دھرندر 2‘ کی پہلی جھلک جاری، ٹریلر اور فلم کی ریلیز کب ہوگی؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
ہدایتکار ادیتیا دھر کی ایکشن فلم ’دھرندر‘ کے دوسرے حصے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ فلم کے ٹیزر کی ریلیز سے قبل فلم سازوں نے ’دھرندر 2: دی ریونج‘ کی پہلی جھلک جاری کر دی ہے جس میں رنویر سنگھ خون میں لت پت نظر آ رہے ہیں۔
فلم کا ٹیزر آج دوپہر 12 بج کر 12 منٹ پر جاری کیا جائے گا جبکہ متحدہ عرب امارات میں یہ رات 10 بج کر 42 منٹ پر دستیاب ہوگا۔ جاری کیے گئے پوسٹر میں رنویر سنگھ سرخ روشنی میں بارش کے دوران کھڑے دکھائی دیتے ہیں جو خون کی بارش کا تاثر دیتا ہے اور فلم کے پرتشدد اور سنسنی خیز انداز کو نمایاں کرتا ہے۔
رنویر سنگھ نے یہ پوسٹر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’اب بگڑنے کا وقت آ گیا ہے دھرندر: دی ریونج۔ ٹیزر آج 12:12 بجے اور فلم 19 مارچ 2026 کو دنیا بھر کے سینما گھروں میں ہندی، تیلگو، تامل، کنڑ اور ملیالم زبانوں میں ریلیز کی جائے گی‘۔
View this post on InstagramA post shared by Ranveer Singh (@ranveersingh)
ادیتیا دھر کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کو مجموعی اداکاری اور ایکشن مناظر پر سراہا گیا تاہم اس کی سیاسی پیشکش اور حقیقی واقعات کی منتخب عکاسی پر تنقید بھی سامنے آئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔