نیٹ میٹرنگ میں مجوزہ تبدیلیاں، سولر صارفین کس حد تک متاثر ہوں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
وفاقی حکومت نے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں مجوزہ ترامیم پر حتمی پیش رفت کرتے ہوئے سولر صارفین کے لیے یونٹ ٹو یونٹ ایڈجسٹمنٹ کے خاتمے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اس سلسلے میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 6 فروری کو عوامی سماعت طلب کر لی ہے جس میں صارفین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے جمع کرائے گئے اعتراضات کا جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق نیپرا نے 16 دسمبر کو نیٹ میٹرنگ پالیسی میں مجوزہ ترامیم کا مسودہ جاری کیا تھا اور 30 دن کے اندر اعتراضات طلب کیے گئے تھے۔ عوامی سماعت کے بعد ان ترامیم پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سولر سسٹم کے باوجود شہری کو 52 ہزار کا بل، شہریوں میں تشویش
مجوزہ نیٹ بلنگ نظام کے تحت سولر صارفین کی جانب سے قومی گرڈ کو فراہم کی جانے والی بجلی کی قیمت 11 روپے فی یونٹ مقرر کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ موجودہ یونٹ ٹو یونٹ ایڈجسٹمنٹ کی سہولت ختم کر دی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ترامیم کی منظوری کی صورت میں صارفین کو استعمال شدہ بجلی کا بل قومی ٹیرف کے مطابق اور برآمد شدہ یونٹس کا علیحدہ بل جاری کیا جائے گا جو موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام سے ایک نمایاں تبدیلی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں سولر پینلز کا اربوں کا فراڈ، تاجروں کے پیسے کس نے ہڑپ کیے؟
حکومتی مؤقف کے مطابق یہ اقدام توانائی کے شعبے میں اخراجات میں کمی، ٹیرف نظام کو مؤثر بنانے اور مالی دباؤ کم کرنے کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے۔
دوسری جانب سولر صارفین اور انڈسٹری سے وابستہ حلقوں نے مجوزہ تبدیلیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یونٹ ٹو یونٹ ایڈجسٹمنٹ کے خاتمے سے روف ٹاپ سولر منصوبوں کی معاشی افادیت متاثر ہو سکتی ہے اور سرمایہ کاری کا رجحان کم ہونے کا خدشہ ہے۔
نیپرا کے مطابق عوامی سماعت میں تمام اعتراضات اور تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد ہی نظرثانی شدہ پالیسی کا حتمی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سولر سولر پینل نیپرا نیٹ میٹرنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سولر سولر پینل نیپرا نیٹ میٹرنگ سولر صارفین نیٹ میٹرنگ کے مطابق جائے گا
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔