سینیٹ کمیٹی، کیس فریقین کی رضامندی سے ویڈیو، آڈیو ریکارڈنگ کی سفارش منظور
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
فائل فوٹو
سینیٹ کمیٹی قانون و انصاف نے کیس فریقین کی رضا مندی سے ویڈیو، آڈیو ریکارڈنگ کی سفارش منظور کرلی۔
سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس ہوا، جس میں سینیٹر سرمد علی نے فیملی کورٹس ترمیمی بل پیش کیا۔
سینیٹر سرمد علی نے سفارش کی کہ فیملی کورٹس میں جواب جمع کرانے کےلیے 30 کے بجائے 15 دن دیے جائیں، کیس کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے اور محفوظ رکھی جائے۔
وفاقی وزیر مواصلات و نجکاری علیم خان نے پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان سے سینیٹ اجلاس میں معذرت کرلی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو کسی مقدمے میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کردیا جاتا ہے مگر عام عوام کےلیے یہ سہولت نہیں ہے۔
اس موقع پر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ عدالت کو ان کے حال پر چھوڑ دیں، وکلا اس ترمیم کا غلط استعمال کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ کے ایک جج صاحب نے وڈیولنک استعمال کرکے ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ کو سزا سنادی۔
اسلام آباد انتظامیہ کے نمائندے نے کہا کہ ہم نے کچھ ترامیم کے ساتھ اس بل کی حمایت کی ہے۔
دوران اجلاس کمیٹی نے فریقین کی رضامندی کی شمولیت کے بعد ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کی سفارش منظور کرلی ہے۔
کمیٹی نے عوامی عہدے پر گریجویشن کو لازمی شرط قرار دینے کا بل مسترد کردیا، آرٹیکل 228 میں ترمیم کا بل بھی مؤخر کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈیو ریکارڈنگ کی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔