چٹاگانگ پورٹ پر غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان، تجارتی سرگرمیوں میں ممکنہ رکاوٹ کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
چٹاگانگ پورٹ میں غیر معینہ مدت تک کام روکنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے بنگلہ دیش کے اہم سمندری راستے اور خطے کی تجارتی روانی پر اثرات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ پورٹ پروٹیکشن اسٹرگل کونسل کی جانب سے یہ فیصلہ گزشتہ 24 گھنٹے کی ہڑتال کے اختتام سے فوراً پہلے کیا گیا، جس کے بعد غیرمعینہ مدت کی ہڑتال شروع ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں:طالب علم رہنما کے قتل کیخلاف احتجاج، چٹاگانگ میں عوامی لیگ کے سابق وزیر تعلیم کا گھر نذر آتش
ہڑتال کو چٹاگانگ ورکرز اینڈ ایمپلائز یونٹی کونسل (SKOP) کی رسمی حمایت حاصل ہے، جس نے ہنگامی اجلاس میں اس پروگرام کی منظوری دی۔ ایس کے او پی کے رہنماؤں نے شپنگ منسٹری کے مشیر بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) شخوات حسین، بنگلہ دیش انویسٹمنٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (BIDA) کے ایگزیکٹو چیئرمین اشیق چوہدری اور چٹاگانگ پورٹ کے چیئرمین ایس ایم منیر الزمان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
ملازمین کی جانب سے احتجاج کا مرکز نیو مورنگ کنٹینر ٹرمینل (NCT) کی لیزنگ کا عمل ہے، جسے پورٹ کا ایک اہم اسٹریٹجک مقام قرار دیا گیا ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ لیزنگ سے قومی مفادات، ملازمتوں کی حفاظت اور پورٹ کے عمل میں شفافیت کو خطرہ لاحق ہے۔ یونین رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ پورٹ حکام تحریک کو دبانے کے لیے لیبر رہنماؤں اور ملازمین کی بڑے پیمانے پر تبادلے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاک بنگلہ تجارت میں اہم پیشرفت: کراچی سے پہلا براہ راست کارگو جہاز چٹاگانگ پورٹ پر لنگر انداز
احتجاجی جلسوں میں سینیئر پورٹ اور سرمایہ کاری کے حکام پر بدعنوانی اور کمیشن کی بنیاد پر معاملات کرنے کے الزامات لگائے گئے اور ان کے عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔
پورٹ پروٹیکشن اسٹرگل کونسل کے کوآرڈینیٹر حمیون کبیر نے کہا کہ سات ماہ کی تحریک کے باوجود لیزنگ کے عمل کو روکا نہیں جا سکا، اس لیے کارکنان کے پاس غیر معینہ ہڑتال کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
چٹاگانگ پورٹ بنگلہ دیش کی زیادہ تر سمندری تجارت کو ہینڈل کرتا ہے، جس میں ایندھن، خوراک اور صنعتی خام مال کی درآمد شامل ہے۔ کسی بھی طویل ہڑتال سے سپلائی چین، برآمدات اور پڑوسی ممالک میں بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس پر پاکستان اور جنوبی ایشیا بھر میں توجہ دی جا رہی ہے۔ اب تک حکام نے اس تازہ صورتحال پر کوئی سرکاری جواب جاری نہیں کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش چٹاگانگ چٹاگانگ پورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔