تحریک بیداری کے سربراہ نے کہاکہ جس طرح پاکستانی قوم غزہ کے ساتھ کھڑی ہے، اسی طرح ایران کی حمایت میں بھی یکجا ہے۔ ہمارے دلوں میں امریکہ اور اسرائیل کے لیے نہ ہمدردی ہے اور نہ حمایت، کیونکہ ظلم سے ہمدردی ممکن نہیں، یہ ہمارا ایمانی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے اور پاکستانی قوم اپنی حسینی غیرت کے ساتھ ہمیشہ حق کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر سید رضا امیری مقدم نے جامعہ عروۃ الوثقیٰ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جامعہ کے سرپرست اعلیٰ اور تحریکِ بیداریِ اُمتِ مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے جامعہ کے طلبہ و اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے خطے کی صورتحال پر جامع گفتگو کی اور ایران کے اصولی مؤقف اور رہبر معظم انقلاب اسلامی سید علی خامنہ ای کی حمایت میں علامہ جواد نقوی اور جامعہ عروۃ الوثقیٰ کی جرات مندانہ آواز کو سراہا۔  انہوں نے ایرانی عوام کی استقامت، ثابت قدم قیادت اور امریکہ و اسرائیل کی تاریخی دشمنی و سازشوں پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔

علامہ سید جواد نقوی نے اس موقع پر سفیرِ ایران کی خدمات کو سراہتے ہوئے زور دے کر کہا کہ آیت اللہ خامنہ‌ای محض ایران کی سیاسی شخصیت نہیں، بلکہ پوری امتِ اسلام کے تشخص اور وحدت کی علامت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح پاکستانی قوم غزہ کے ساتھ کھڑی ہے، اسی طرح ایران کی حمایت میں بھی یکجا ہے۔ ہمارے دلوں میں امریکہ اور اسرائیل کے لیے نہ ہمدردی ہے اور نہ حمایت، کیونکہ ظلم سے ہمدردی ممکن نہیں، یہ ہمارا ایمانی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے اور پاکستانی قوم اپنی حسینی غیرت کے ساتھ ہمیشہ حق کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور امتِ اسلامیہ کے مشترکہ چیلنجز کے مقابلے میں یکجہتی پر زور دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاکستانی قوم کے ساتھ کھڑی جواد نقوی ایران کی انہوں نے ہے اور

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار