2 تا 4 فروری، سعودی میڈیا فورم 2026 کا ریاض میں آغاز ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
ریاض :(ویب ڈیسک) سعودی میڈیا فورم 2026 پیر کو سعودی دارالحکومت ریاض میں شروع ہو گیا۔ فورم کے دوران “سعودی پائیداری: میڈیا سیاحت کا مستقبل کس طرح بیان کرتا ہے ‘‘ کے عنوان سے سیشن میں پائیدار میڈیا کی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ “سعودی عرب میں پائیدار سیاحت: وژن سے عمل درآمد تک” کے عنوان سے مباحثے میں عمومی تعریفوں کو قابل عمل طریقوں میں ڈھالا جا ئے گا۔
“پردے کے پیچھے آپریشنل پائیداری: سیاحوں کے تجربے کے معاون عناصر کے طور پر ماحول، سیکورٹی، نقل و حمل، اور لاجسٹکس” کے تھیم کے تحت مقررین اس بات پر زور دیں گے کہ سیاحت کے معیار کا تعین نہ صرف مناظر سے ہوتا ہے بلکہ اس میں ماحول کی حفاظت کرنے والے نظاموں، ٹریفک اور دیگر وسائل کے انتظام اور تحفظ اور خدمات کی فراہمی کے تسلسل کا بھی کردار ہے۔ فورم کے دوران ایک سیشن پیغام رسانی کی سطح پر ’’پائیدار میڈیا: مبالغہ آرائی یا پروموشن کے بغیر اثر کی کہانی کیسے بیان کریں” کے موضوع پر ہو گا۔
سیشن میں ریڈ سی انٹرنیشنل میں ماحولیات اور پائیداری کے سربراہ انجینئر رعد الباسط شامل خاص طور پر شرکت کریں گے ۔فورم 2 سے 4 فروری تک ریاض میں منعقد ہو گا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔