Daily Sub News:
2026-06-02@22:24:41 GMT

نیب کی 2025میں 6213ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

نیب کی 2025میں 6213ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری

نیب کی 2025میں 6213ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2026 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)نیب نے سال 2025 میں 6213 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کرلی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیب نے قیام سے اب تک کی سب سے بڑی سالانہ وصولی کی ،3برس میں نیب کی مجموعی ریکوری 11,524 ارب روپے ہوگئی۔نیب نے 29 لاکھ 80 ہزار ایکڑ سرکاری و جنگلاتی اراضی بھی واگزار کرا لی،واگزار کرائی گئی سرکاری زمین کی مالیت 59 کھرب 80 ارب روپے ہے ۔

ڈپٹی چیئرمین سہیل ناصرنے بتایا کہ نیب سکھرنے 3730 ارب روپے مالیت کی زمین واگزارکرائی ،نیب بلوچستان نے 1374 ارب روپیمالیت کی زمین واگزارکرالی،جبکہ نیب ملتان نے 653 ارب روپے کی سرکاری زمین بحال کرائی۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ہاوسنگ اسکیموں کے 1 لاکھ 15 ہزار متاثرین کو 180 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیاگیا ،پہلی بار ڈیجیٹل نظام سے 2.

8 ارب روپے براہ راست متاثرین کے کھاتوں میں منتقل ہوئے۔اسٹیٹ لائف ہاوسنگ کے متاثرین کو 72.23 ارب روپے مالیت کے پلاٹ واپس دلائے گئے۔

ڈپٹی چیئرمین سہیل ناصرنے بتایا کہ نیب نے سال کے دوران 191 انکوائریز اور 65 اہم تحقیقات مکمل کیں،عدالتوں میں نیب کے استغاثہ کی کامیابی کی شرح 72 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی،وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت 238 آسامیاں ختم کی گئیں جس سے سالانہ 356 ملین روپے کی بچت ہوئی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرشفافیت اور احتساب پر سروے، 67فیصد عوام کی بدعنوانی کا سامنا نہ ہونے کی تصدیق شفافیت اور احتساب پر سروے، 67فیصد عوام کی بدعنوانی کا سامنا نہ ہونے کی تصدیق قومی اسمبلی، بلوچستان میں دہشتگردی کیخلاف قرارداد منظور، کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی محمود خان اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کی صحت پر اظہار تشویش ملکی حالات خراب ہوتے جارہے ہیں، پنجاب میں سول مارشل لا نافذ ہے، وزیراعلی پختونخوا جاپان کی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 23.9 روپے گرانٹ کی منظوری چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا پارلیمانی وفد کے ہمراہ کمبوڈیا کا سرکاری دورہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: روپے کی

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا