چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت شاہدرہ ڈیم منصوبے کے حوالے سے اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت شاہدرہ ڈیم منصوبے کے حوالے سے اجلاس WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت شاہدرہ ڈیم منصوبے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ جسمیں سی ڈی اے بورڈ کے ممبر ایڈمن طلعت محمود، ممبر پلاننگ و ڈیزائن ڈاکٹر خالد حفیظ، ڈائریکٹر جنرل اسلام آباد واٹر، ڈپٹی کمشنر سی ڈی اے اور اسلام آباد واٹر کے سنئیر افسران نے شرکت کی۔
متعلقہ افسران نے چیئرمین سی ڈی اے کو واٹر مینجمنٹ منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ واپڈا نے شاہدرہ ڈیم منصوبے کی فیزیبلٹی اسٹڈی کا عمل مکمل کرلیا ہے اور اس منصوبے کی مکمل فیزیبلٹی رپورٹ سی ڈی اے کیساتھ شئیر کر دی گئی ہے۔ بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ فیزیبلٹی رپورٹ میں ڈیم کیلئے اراضی کا حصول، پانی کی ترسیل، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سمیت دیگر ابتدائی تخمینے تیار کرلئے گئے ہیں۔بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ شاہدرہ ڈیم میں 25ایکٹر رقبے پر پانی کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی۔ اسی طرح یہ منصوبہ اسلام آباد کے شہریوں کو یومیہ 10 ملین گیلن پانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ شاہدرہ ڈیم منصوبے کی فیزیبلٹی رپورٹ کی تکمیل کیساتھ ہی تفصیلی ڈیزائن پر کام کا آغاز کیا جائیگا۔ بریفنگ دیتے ہوئے مزید بتایا گیا کہ اس منصوبے کا پی سی-ون تیاری کے بعد منظوری کیلئے جلد پیش کیا جائیگا۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ ڈیم کی اراضی کے حصول سے قبل سپارکو سے باقاعدہ سروے کرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اراضی کے حصول سے متعلق تمام معاملات کو شفافیت اور قانونی تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کی فیزیبلٹی رپورٹ اور تفصیلی ڈیزائن کو منظوری کیلئے جڑواں شہروں کے پانی کے مسائل حل کرنے کیلئے قائم کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔ علاوہ ازیں، اجلاس میں دوتارہ ڈیم منصوبے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ دوتارہ ڈیم منصوبے کی فیزیبلٹی رپورٹ پر کام جاری ہے۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ یہ منصوبے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پانی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلا تعطل پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنیب کی 2025میں 6213ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری نیب کی 2025میں 6213ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری شفافیت اور احتساب پر سروے، 67فیصد عوام کی بدعنوانی کا سامنا نہ ہونے کی تصدیق قومی اسمبلی، بلوچستان میں دہشتگردی کیخلاف قرارداد منظور، کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی محمود خان اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کی صحت پر اظہار تشویش ملکی حالات خراب ہوتے جارہے ہیں، پنجاب میں سول مارشل لا نافذ ہے، وزیراعلی پختونخوا جاپان کی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 23.9 روپے گرانٹ کی منظوری
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈیم منصوبے کے حوالے سے شاہدرہ ڈیم منصوبے چیئرمین سی ڈی اے
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔