اسلام آباد کے تعلیمی اداروں سے 3سال کے دوران کتنی منشیات ضبط کی گئیں؟ تفصیلات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
اسلام آباد:
گزشتہ 3 سالوں کے دوران اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے اندر اور گرد و نواح میں منشیات کی روک تھام کی کاروائیوں کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کر دی گئی۔
منشیات اسمگلنگ کی روک تھام اور تدارک کے لیے انٹیلیجنس بنیاد پر چھاپہ مار کاروئیاں کی گئیں۔
اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے اندر اور گرد و نواح میں منشیات کی روک تھام کے چھاپوں میں 307 کلوگرام منشیات ضبط کی گئی۔
مزید پڑھیںتعلیمی اداروں میں منشیات کے خاتمے کا کیس؛ عملدرآمد رپورٹس جمع، فیصلہ کن اقدامات کی ہدایت
اسلام آباد پولیس کا تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کیلیے بڑا اقدام
گزشتہ تین سالوں میں اسلام آباد کی تعلیمی اداروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائی میں 214 کیسز درج ہوئے اور 263 گرفتار ہوئے۔
سال 2023 میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں سے 3 کلو ڈرگ ضبط کی گئی، 4 افراد گرفتار ہوئے اور 4 کیسز بنے۔ 2024 میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں سے 176 کلو منشیات ضبط ہوئی اور 102 کیسز درج ہوئے اور 125 گرفتار ہوئے جبکہ 2025 میں 307 کلو گرام منشئات ضبط کی گئی، 108 کیسز بنے، 134 گرفتار ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام آباد کے تعلیمی اداروں گرفتار ہوئے کی روک تھام میں منشیات ضبط کی گئی
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔