سعودی عرب کی 2025 میں تقریباً دو کروڑ بیرونی زائرین کی کامیاب میزبانی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض:سعودی عرب نے سال 2025 کے دوران بیرونِ ملک سے آنے والے تقریباً دو کروڑ حجاج اور معتمرین کی میزبانی کر کے ایک نیا سنگِ میل عبور کر لیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی قومی مرکز برائے کارکردگیِ سرکاری ادارہ جات (اداء) نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ سال 2025 کے دوران ایک کروڑ 95 لاکھ غیر ملکی حجاج اور عمرہ زائرین کو مختلف سہولیات اور خدمات فراہم کی گئیں۔
ادارہ “اداء” کی رپورٹ کے مطابق حجاج اور معتمرین کو فراہم کی جانے والی مجموعی خدمات پر زائرین کے اطمینان کی شرح 90 فیصد سے زائد رہی جو سعودی حکومت کی مؤثر منصوبہ بندی، بہتر انتظامات اور جدید سہولیات کی عکاسی کرتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ “خدمتِ زائرین پروگرام” کے تحت فراہم کی گئی سہولیات پر حجاج کرام میں اطمینان کی شرح 91 فیصد جبکہ عمرہ زائرین میں یہ شرح 94 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو ایک غیر معمولی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حجاج اور معتمرین کے لیے سفری سہولیات، امیگریشن کے عمل، رہائش، صحت، نقل و حمل، سکیورٹی اور رہنمائی سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں بہتری لائی گئی۔ جدید ڈیجیٹل سسٹمز، اسمارٹ ایپلی کیشنز اور مربوط سروسز کے ذریعے زائرین کو بروقت اور مؤثر سہولیات فراہم کی گئیں، جس کے مثبت اثرات اطمینان کی بلند شرح کی صورت میں سامنے آئے۔
اداء کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی عرب نے منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کے معیار کو مزید بہتر بنایا ہے، 60 سے زائد سرکاری اداروں اور متعلقہ محکموں کے باہمی تعاون سے زائرین کو مربوط اور ہمہ جہت خدمات فراہم کی گئیں، جس سے نہ صرف انتظامی کارکردگی میں اضافہ ہوا بلکہ زائرین کے مجموعی تجربے کو بھی بہتر بنایا جا سکا۔
سعودی حکام کے مطابق حجاج اور معتمرین کی خدمت سعودی وژن 2030 کا ایک اہم ستون ہے، جس کے تحت مملکت ہر سال لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں زائرین کی بہتر انداز میں میزبانی کی صلاحیت بڑھا رہی ہے، آئندہ برسوں میں مزید سہولیات، جدید انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل حل متعارف کرائے جائیں گے تاکہ زائرین کو زیادہ آرام دہ اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حجاج اور معتمرین زائرین کو کے مطابق فراہم کی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔