پاکستان فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ نولنرٹو سولانو نے کہا ہے کہ ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت فراہم کی جائے تو پاکستان عالمی فٹبال میں نمایاں حیثیت حاصل کر سکتا ہے۔

بدھ سے کراچی میں شروع ہونے والے 31ویں قومی چیلنج کپ فٹبال ٹورنامنٹ سے مقامی کھلاڑیوں کو اپنی اہلیت کے اظہار کے مواقع میسر آئیں گے، مستقبل میں بین الاقوامی مقابلوں کے لیے بہتر کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے ایسے مقابلے ضروری ہیں۔

انہوں نے اس امر کا اظہار منگل کو  ایکسپریس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا،پیرو سے تعلق رکھنے والے ہیڈ کوچ سولانو کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لیے گراس روٹ پر تسلسل کے ساتھ مقابلوں کا انعقاد ضروری ہے، فٹبال کا آغاز اسکول کی سطح ہی سے ہونا چاہیے۔

قومی فٹبال ٹیم میں شامل غیر ملکی نثراد کھلاڑی بہت باصلاحیت اور تجربے کار ہیں،مستقبل میں مقامی سطح سے اچھے فٹبالرز کو سامنے لانے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا، پاکستان کو فٹبال میں ترقی کے لیے بھرپور اور انتھک محنت کرنی ہوگی وہ دن دور نہیں جب پاکستان فیفا کی عالمی رینکنگ میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

اس وقت تمام تر توجہ مارچ میں مالدیپ میں ہونے والی ساف انڈر 20 فٹبال چیمپین شپ پر ہے،قبل ازیں انہوں نے مقامی ہوٹل میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ بطور ہیڈ کوچ اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کروں گا، فیفا کی زیر نگرانی پاکستان فٹبال فیڈریشن کی کاوشیں قابل قدر ہیں۔

اس موقع پر قومی فیڈریشن کے نائب صدر  حافظ ذکا نے کہا کہ قومی سطح کے ایونٹ کے انعقاد سے فٹبال کو فروغ ملے گا، 10 برس کے بعد فیڈریشن کے انعقاد سے قومی فٹبال کی سرگرمیوں کو تقویت ملے گی، فیفا کے ساتھ مل کر ملک میں فٹبال کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔

صوبائی صدر اعظم خان نے کہا کہ سندھ کو قومی چیلنج کپ کی میزبانی ملنا خوش آئند ہے،کے پی ٹی اور کے ایم سی اسٹیڈیم پر بیک وقت شروع ہونے والے قومی  چیلنج کپ میں  شریک  دفاعی چیمپین پاکستان واپڈا سمیت12 ٹیموں کو 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے،راؤنڈ مقابلوں کے بعد ہر گروپ سےٹاپ دو ٹیمیں کوارٹر فائنل میں شرکت کریں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہیڈ کوچ کے لیے نے کہا

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی