پاکستان میں فٹبال ٹیلنٹ کی کمی نہیں، جدید تربیت کی ضرورت ہے: ہیڈ کوچ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
پاکستان فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ نولنرٹو سولانو نے کہا ہے کہ ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت فراہم کی جائے تو پاکستان عالمی فٹبال میں نمایاں حیثیت حاصل کر سکتا ہے۔
بدھ سے کراچی میں شروع ہونے والے 31ویں قومی چیلنج کپ فٹبال ٹورنامنٹ سے مقامی کھلاڑیوں کو اپنی اہلیت کے اظہار کے مواقع میسر آئیں گے، مستقبل میں بین الاقوامی مقابلوں کے لیے بہتر کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے ایسے مقابلے ضروری ہیں۔
انہوں نے اس امر کا اظہار منگل کو ایکسپریس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا،پیرو سے تعلق رکھنے والے ہیڈ کوچ سولانو کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لیے گراس روٹ پر تسلسل کے ساتھ مقابلوں کا انعقاد ضروری ہے، فٹبال کا آغاز اسکول کی سطح ہی سے ہونا چاہیے۔
قومی فٹبال ٹیم میں شامل غیر ملکی نثراد کھلاڑی بہت باصلاحیت اور تجربے کار ہیں،مستقبل میں مقامی سطح سے اچھے فٹبالرز کو سامنے لانے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا، پاکستان کو فٹبال میں ترقی کے لیے بھرپور اور انتھک محنت کرنی ہوگی وہ دن دور نہیں جب پاکستان فیفا کی عالمی رینکنگ میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
اس وقت تمام تر توجہ مارچ میں مالدیپ میں ہونے والی ساف انڈر 20 فٹبال چیمپین شپ پر ہے،قبل ازیں انہوں نے مقامی ہوٹل میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ بطور ہیڈ کوچ اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کروں گا، فیفا کی زیر نگرانی پاکستان فٹبال فیڈریشن کی کاوشیں قابل قدر ہیں۔
اس موقع پر قومی فیڈریشن کے نائب صدر حافظ ذکا نے کہا کہ قومی سطح کے ایونٹ کے انعقاد سے فٹبال کو فروغ ملے گا، 10 برس کے بعد فیڈریشن کے انعقاد سے قومی فٹبال کی سرگرمیوں کو تقویت ملے گی، فیفا کے ساتھ مل کر ملک میں فٹبال کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔
صوبائی صدر اعظم خان نے کہا کہ سندھ کو قومی چیلنج کپ کی میزبانی ملنا خوش آئند ہے،کے پی ٹی اور کے ایم سی اسٹیڈیم پر بیک وقت شروع ہونے والے قومی چیلنج کپ میں شریک دفاعی چیمپین پاکستان واپڈا سمیت12 ٹیموں کو 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے،راؤنڈ مقابلوں کے بعد ہر گروپ سےٹاپ دو ٹیمیں کوارٹر فائنل میں شرکت کریں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہیڈ کوچ کے لیے نے کہا
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔