ایپسٹین فائلز میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے نام بھی سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
رپورٹس کے مطابق ایپسٹین فائلز میں پاکستان سے متعلق ذکر محدود اور زیادہ تر سرسری نوعیت کا ہے اور یہ حوالہ جات عالمی سطح پر سامنے آنے والے دیگر سنگین انکشافات کے مقابلے میں کم نوعیت کے سمجھے جا رہے ہیں، تاہم فائلز میں پاکستان کا نام آنے کے باعث توجہ ضرور حاصل ہوئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جیفری ایپسٹین فائلز میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے نام بھی سامنے آ گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز نامی تازہ دستاویزات میں دنیا بھر کی بااثر اور معروف شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں۔ ان فائلز میں پاکستان سے متعلق بھی چند حوالہ جات شامل ہیں، جن میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ناموں کا ذکر موجود ہے۔ ایپسٹین فائلز سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے جڑے نیٹ ورک، روابط، ملاقاتوں اور ای میل خط و کتابت پر مشتمل ہیں۔ ان دستاویزات میں سیکڑوں سیاستدانوں، کاروباری شخصیات اور عالمی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کے نام شامل ہیں، تاہم ان تمام حوالہ جات کو یکساں نوعیت کا نہیں قرار دیا جا رہا۔ رپورٹس کے مطابق ایپسٹین فائلز میں پاکستان سے متعلق ذکر محدود اور زیادہ تر سرسری نوعیت کا ہے اور یہ حوالہ جات عالمی سطح پر سامنے آنے والے دیگر سنگین انکشافات کے مقابلے میں کم نوعیت کے سمجھے جا رہے ہیں، تاہم فائلز میں پاکستان کا نام آنے کے باعث توجہ ضرور حاصل ہوئی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جیفری ایپسٹین اور مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کی ٹیموں کے درمیان ہونے والی بعض ای میلز میں پولیو کے خاتمے سے متعلق پروگرام کا ذکر آیا ہے۔ ان ای میلز میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے سابق مشیر بورس نیکولک کا نام بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک ای میل میں ایک نامعلوم شخص ایپسٹین کو آگاہ کرتا ہے کہ پاکستان اور نائیجیریا میں پولیو ٹیموں پر حملے ہو رہے ہیں اور اس صورتحال میں ممکنہ کردار سے متعلق سوال کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بورس نیکولک اور جیفری ایپسٹین کے درمیان ہونے والی ایک ای میل میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بل گیٹس پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی اس خبر پر خوش نہیں تھے جس میں عمران خان سے فون پر ممکنہ گفتگو کا ذکر کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس قسم کی خبریں پولیو مہم کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔
ایپسٹین فائلز میں 2010ء کی ایک ای میل کا بھی حوالہ دیا جا رہا ہے جو جیفری ایپسٹین اور جے پی مورگن کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے درمیان ہوئی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق اس ای میل میں بعض غیر ملکی شخصیات کی ایپسٹین کے ساتھ نجی ملاقاتوں کا ذکر موجود ہے، جن میں اس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا نام بھی شامل بتایا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ستمبر 2018ء کی ایک ای میل میں گولڈمین سیکس سے وابستہ جیڈ زیٹلِن نے جیفری ایپسٹین کو لکھا کہ ان کے خیال میں عمران خان کی قیادت سست رفتار کار حادثے سے مشابہ ہے، چاہے انہیں چین کی حمایت حاصل ہی کیوں نہ ہو۔ اس رائے کو بھی فائلز میں شامل ذاتی خیالات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ایپسٹین فائلز میں پاکستان سے جڑے چند غیر سیاسی حوالہ جات بھی سامنے آئے ہیں۔ میڈیا ذرائع کے مطابق بعض ای میلز میں جیفری ایپسٹین کو پاکستانی شلوار قمیض کے لیے پسند کا اظہار کرتے دکھایا گیا ہے۔ ایک ای میل میں وہ شلوار اور قمیض کے ناموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں جب کہ ایک اور ای میل میں انہیں پاکستان سے ملبوسات کے 5 جوڑوں کی شپمنٹ جلد پہنچنے کی اطلاع دی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایپسٹین فائلز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام بھی متعدد بار آیا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ جاری کی گئی نئی دستاویزات میں ان کے خلاف کسی غیر قانونی سرگرمی کا کوئی ثبوت موجود نہیں اور فائلز نے انہیں الزامات سے بری کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایپسٹین فائلز میں شامل تمام ناموں کو ایک ہی زاویے سے دیکھنا درست نہیں سمجھا جا رہا۔ پاکستان سے متعلق حوالہ جات کو محدود، غیر مرکزی اور زیادہ تر ای میل خط و کتابت تک محدود قرار دیا جا رہا ہے، تاہم عالمی سطح پر ان دستاویزات کے اجرا نے ایک بار پھر طاقتور حلقوں کے روابط پر بحث کو جنم دے دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے مطابق ایپسٹین فائلز میں میڈیا رپورٹس کے مطابق فائلز میں پاکستان سے پاکستان سے متعلق شاہ محمود قریشی ذرائع کے مطابق ایک ای میل میں جیفری ایپسٹین کے مطابق ای حوالہ جات کیا گیا نام بھی جا رہا کے نام کا نام کا ذکر گیا ہے
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :