پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ٹیرف ریٹ کوٹہ تقسیم کے معاہدے پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ٹیرف ریٹ کوٹہ (ٹی آر کیو) تقسیم کے معاہدے پر دستخط ہوگئے۔ اس حوالے سے یورپین کمیشن میں آج ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں پاکستان اور یورپی یونین نے ٹیرف ریٹ کوٹہ کی تقسیم کے معاہدے پر دستخط کیے۔
معاہدے کی تقریب میں یورپین کمیشن کی نمائندگی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایگری پئیر باسکو جبکہ پاکستان کی نمائندگی یورپین یونین، بیلجیئم اور لکسمبرگ میں پاکستانی سفیر رحیم حیات قریشی نے کی۔
اس معاہدے سے برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کے بعد دو طرفہ تجارتی انتظامات میں تسلسل اور قانونی وضاحت کو یقینی بنایا گیا ہے۔
دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، یورپی یونین میں پاکستان کے سفیر نے کہا کہ یہ معاہدہ تعاون کے مضبوط جذبے، باہمی اعتماد اور تکنیکی مشغولیت کی ایسی عکاسی کرتا ہے جو پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کی بنیاد ہے۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ معاہدہ کثیرالجہتی ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں فریقوں کی وابستگی اور ایک مضبوط قواعد پر مبنی بین الاقوامی تجارتی نظام کے تحفظ کا واضح اشارہ دیتا ہے۔
سفیر نے دو طرفہ اور کثیر الجہتی فورمز پر پاکستان اور یورپی یونین کے قریبی تعاون پر روشنی ڈالی، جس میں کثیر فریقی عبوری اپیل کا ثالثی انتظام (ایم پی آئی اے)، ترقیاتی معاہدے کے لیے سرمایہ کاری کی سہولت، تجارت اور صنفی تحفظ کے اقدام بھی شامل ہیں۔
اس موقع پر بتایا گیا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جس میں جی ایس پی پلس کے ذریعے یورپ پائیدار اقتصادی ترقی کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹی آر کیو معاہدہ واضح ذمہ داری، رپورٹنگ اور تصدیقی انتظامات کے ذریعے اس فریم ورک کی تکنیکی بنیادوں کو مضبوط کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاکستان اور یورپی یونین کے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔