بنگلہ دیش اور جاپان نے دو طرفہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو آسان بنانا اور سیکیورٹی تعاون کو مضبوط کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے ریپڈ ایکشن بٹالین کا نام اور وردی کیوں تبدیل کی جارہی ہے؟

معاہدے پر منگل کے روز ڈھاکہ میں دستخط ہوئے۔ بنگلہ دیش کی جانب سے آرمی فورسز ڈویژن کے پرنسپل اسٹاف آفیسر لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم کامرل حسن نے دستخط کیے جبکہ جاپان کی طرف سے سفیر سائدا شِنِیچی نے نمائندگی کی۔

جاپان کی وزارتِ خارجہ نے ایک سرکاری بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ معاہدہ فوری طور پر مؤثر ہو گیا ہے۔

بیان کے مطابق اس معاہدے کے تحت دونوں حکومتوں کے درمیان دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے ایک باقاعدہ قانونی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔ یہ وسائل خاص طور پر ان منصوبوں میں استعمال ہوں گے جو بین الاقوامی امن اور سیکیورٹی میں تعاون فراہم کریں۔

مزید پڑھیے: ووٹ خریدنے والوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے، امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمان

معاہدے میں ہر منتقلی کے لیے منظوری اور تصدیق کے طریقہ کار، اور منتقل کیے گئے سازوسامان اور ٹیکنالوجی کے مناسب اور متعین استعمال کے بنیادی اصول شامل ہیں۔ اس میں یہ بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ سازوسامان یا ٹیکنالوجی کی کسی تیسرے فریق کو منتقلی یا معاہدے سے باہر استعمال نہ ہو۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اور بھانجی کو کرپشن کیس میں قید کی سزا

جاپان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دفاع کے شعبے میں دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرے گا، اور جاپان کی دفاعی صنعت و تکنیکی صلاحیتوں کو بھی فروغ دے گا، جس سے ملک کے وسیع تر سیکیورٹی اہداف میں مدد ملے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش بنگلہ دیش اور جاپان کا دفاعی معاہدہ جاپان جاپان بنگلہ دیش معاہدہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش جاپان سازوسامان اور ٹیکنالوجی بنگلہ دیش اور جاپان جاپان کی

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل