بحیرہ عرب میں کشیدگی: امریکی ایف-35 طیارے نے ابراہم لنکن کی جانب آنے والا ایرانی ڈرون مار گرایا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن:امریکی فوج نے بحیرہ عرب میں ایک ممکنہ خطرے کو ناکام بناتے ہوئے امریکی ائیرکرافٹ کیریئر کی جانب آنے والا ایرانی ڈرون مار گرانے کی تصدیق کر دی ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے یہ کارروائی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے۔
غیر ملکی رپورٹس کے مطابق امریکی ایف-35 لڑاکا طیارے نے بحیرہ عرب میں گشت کے دوران ایک ایرانی ڈرون کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ امریکی ائیرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جانب بڑھ رہا تھا۔ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی تھی اور اس کا مقصد امریکی بحری جہاز اور اس پر موجود عملے کی حفاظت یقینی بنانا تھا۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مار گرایا جانے والا ڈرون ایرانی ساختہ ’شاہد-139‘ تھا، جسے ممکنہ خطرہ سمجھتے ہوئے فوری طور پر تباہ کر دیا گیا، ایف-35 سی لڑاکا طیارے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ڈرون کو فضا میں ہی نشانہ بنایا۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے میں کسی امریکی فوجی، بحری جہاز یا فوجی ساز و سامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، امریکی افواج خطے میں اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر وقت چوکس ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی جانب
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔