بحیرۂ عرب میں کشیدگی، امریکی ایئرکرافٹ کیریئر کی طرف آنے والا ایرانی ڈرون مار گرایا گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
امریکی فوج نے بحیرۂ عرب میں اپنے ایئرکرافٹ کیریئر کے قریب سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دفاعی کارروائی کرتے ہوئے ایک ایرانی ڈرون کو نشانہ بنا دیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام جہاز اور عملے کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی فورسز کی کمانڈو کارروائی، وینزویلا کے تیل بردار جہاز پر قبضے کی ویڈیو وائرل
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود امریکی ایف-35 سی لڑاکا طیارے نے ایرانی ساختہ ’شاہد-139‘ ڈرون کو مار گرایا۔ ڈرون امریکی ائیرکرافٹ کیریئر کی سمت پرواز کر رہا تھا، جس پر فوری ردعمل دیا گیا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ واقعہ بحیرۂ عرب میں پیش آیا، جہاں ایرانی ڈرون امریکی ایئرکرافٹ کیریئر کے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق صورتحال کو ممکنہ خطرہ سمجھتے ہوئے بروقت کارروائی کی گئی۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ دفاعی کارروائی کا مقصد ائیرکرافٹ کیریئر اور اس پر موجود عملے کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔ واقعے میں کسی امریکی فوجی یا فوجی سازوسامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایئرکرافٹ ایران بحیرہ عرب ڈرون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایئرکرافٹ ایران
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔