وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس نمٹاتے ہوئے فیصلہ جاری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس نمٹاتے ہوئے فیصلہ جاری کر دیا۔ارشد شریف قتل کیس کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامرفاروق نے تحریر کیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان اور کینیا کے درمیان میوچل لیگل اسسٹنس پر دستخط ہوچکا ہے ، اس وقت عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سوموٹو کیس اور تمام متعلقہ درخواستیں نمٹائی جاتی ہیں۔وفاقی آئینی عدالت کا کہنا ہے کہ ارشد شریف کے قتل پرصحافتی برادری اور پاکستانیوں کا دکھ سمجھتے ہیں، پاکستان اور کینیا کی حکومتیں مناسب اقدامات کر رہی ہیں،عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ورثا کسی بھی معاملے پر متعلقہ عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں۔
بلدیاتی نظام کو کامیاب نہیں ہونے دیا جاتا، عوام کوحقوق بلدیاتی نمائندے ہی دے سکتے ہیں۔ منصفانہ انتخاب کیلئے طبقاتی نظام کو ختم کرنا ضروری ہے
خیال رہے کہ 23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں مگاڈی ہائی وے پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر قتل کیا تھا۔بعدازاں کینیا کی پولیس کی جانب سے واقعہ غلط شناخت کا قرار دیا گیا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت ارشد شریف قتل کیس
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔